Jadid Khabar

اشوک گہلوت نے راجستھان میں سرکاری ادائیگیوں کا نظام ٹھپ ہونے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ کو خط لکھا

Thumb

جے پور، 2 جولائی (یو این آئی) راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ریاست میں سرکاری ادائیگیوں کا نظام (پیمنٹ سسٹم) ٹھپ ہونے اور اس کی وجہ سے عام لوگوں، ملازمین اور پنشنرز کو ہونے والی شدید پریشانیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کو ایک امپورٹنٹ خط لکھا ہے۔
مسٹر گہلوت نے مسٹر شرما کو یہ خط لکھ کر ریاست میں پیدا ہونے والے سنگین مالیاتی بحران اور انتظامی بے حسی کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے خط میں کہا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک محکمے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملازمین، پنشنرز، حادثات کا شکار ہونے والے خاندان، اسپتال، دوا فروش (کیمسٹ) اور چھوٹے ٹھیکیداروں سمیت معاشرے کا ہر طبقہ آج اپنی جائز ادائیگیوں کے لیے بھٹک رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اس غیر ضروری بحران سے راحت دلانے کے لیے بروقت اور فوری فیصلے لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے خط میں لکھا کہ ریاست کی تاریخ میں مالیاتی بدانتظامی (فنانشل مس مینجمنٹ) کی ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ آر جی ایچ ایس اسکیم کے تحت نجی اسپتالوں، ڈائیگنوسٹک سینٹرز اور دوا فروشوں کی کروڑوں روپے کی ادائیگیاں مہینوں سے رکی ہوئی ہیں۔ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ اسٹیٹ ہیومن رائٹس کو اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خود ہی اس کا نوٹس لینا پڑا اور کئی اسپتالوں نے اسکیم سے وابستہ خدمات کو محدود کرنے یا ایم او یو ختم کرنے تک کی وارننگ دے دی ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ کیش لیس علاج کا دعویٰ کرنے والی اسکیم میں بھی ملازمین اور پنشنرز کو پہلے اپنی جیب سے پیسے جمع کرانے پڑ رہے ہیں، اس امید پر کہ حکومت سے ادائیگی آنے پر بعد میں رقم واپس مل جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے معاملات میں ریاستی حکومت تحریری گارنٹی دے کر اسپتالوں کو ادائیگیوں کا پابند کرے۔