Jadid Khabar

پانچ ریاستوں میں مثالی ضابطۂ اخلاق ختم، فالٹا اسمبلی حلقہ مستثنیٰ

Thumb

نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات مکمل ہونے کے بعد مثالی ضابطۂ اخلاق ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری حکم کے مطابق مغربی بنگال کی فالٹا اسمبلی نشست کو چھوڑ کر تمام متعلقہ ریاستوں اور اسمبلی حلقوں میں ضابطۂ اخلاق فوری طور پر ختم ہو گیا ہے، جبکہ فالٹا میں دوبارہ انتخاب کے سبب یہ پابندیاں بدستور نافذ رہیں گی۔

الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ مثالی ضابطۂ اخلاق کا نفاذ انتخابی پروگرام کے اعلان کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے اور انتخابی عمل مکمل ہونے تک برقرار رہتا ہے۔ کمیشن کے مطابق آسام، کیرالہ، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور پڈوچیری کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ گجرات، کرناٹک، مہاراشٹر، ناگالینڈ اور تریپورہ کے بعض اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج بھی سامنے آ چکے ہیں، جس کے بعد ان علاقوں میں ضابطۂ اخلاق ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کمیشن نے واضح کیا کہ مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ کی فالٹا اسمبلی نشست پر حالات مختلف ہیں، کیونکہ وہاں انتخابی عمل دوبارہ کرایا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 3 مئی کو فالٹا اسمبلی حلقے میں مکمل ووٹنگ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کمیشن کے مطابق 29 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران سنگین انتخابی بے ضابطگیوں اور جمہوری عمل کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی شکایات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد یہ سخت قدم اٹھایا گیا۔
کمیشن نے بتایا کہ فالٹا اسمبلی حلقے کے تمام 285 پولنگ مراکز، جن میں معاون پولنگ بوتھ بھی شامل ہیں، پر 21 مئی کو دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے گی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 24 مئی کو ہوگی۔
ادھر 4 مئی کو جاری کیے گئے اسمبلی انتخابی نتائج میں مغربی بنگال اور آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی ہے، جبکہ پڈوچیری میں ایک بار پھر قومی جمہوری اتحاد کو کامیابی ملی ہے۔ کیرالہ میں کانگریس کی قیادت والے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے حکومت بنائی ہے، جبکہ تمل ناڈو میں عوام نے منقسم مینڈیٹ دیا اور ریاست میں پہلی بار انتخاب لڑنے والی تھلاپتی وجے کی پارٹی ٹی وی کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔