Jadid Khabar

پوپ مجھ سے خوش ہوں یا نہ ہوں، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں رہیں گے: ڈونالڈ ٹرمپ

Thumb

ایران جنگ شروع ہونے کے بعد کیتھولک چرچ کے سپریم پوپ لیو اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان بیان بازی کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ ہنوز جاری ہے۔ اس جنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوپ لیو نے اسے پوری انسانیت کے لیے ایک بدنما داغ قرار دیا تھا اور فوری جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔ اس بیان کے بعد سے وہ ٹرمپ کی نظروں میں آ گئے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے پوپ تہران کے ذریعہ جوہری ہتھیار رکھنے کی صلاحیت کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن اسے کبھی قبول نہیں کرے گا۔

اس سے قبل منگل کو پوپ لیو نے کہا تھا کہ انہوں نے کبھی جوہری ہتھیاروں کی حمایت نہیں کی اور جو لوگ ان پر تنقید کر رہے ہیں انہیں سچ بولنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات امریکی صدر کے اس بیان کے جواب میں کہی جس میں ان پر ایران جنگ کے متعلق اپنے موقف کے ذریعہ بہت سے کیتھولکوں کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
بدھ (6 مئی) کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو پوپ سے کل ملنے والے ہیں، ایسے میں آپ ان تک کون سا پیغام پہنچانے کی امید رکھتے ہیں۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے متعلق ان کا موقف واضح ہے۔ میں پوپ کو خوش کروں یا نہ کروں، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پوپ کے بیانوں سے ظاہر ہوا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ ایران جوہری ہتھیار رکھ سکتے ہیں اور میں کہہ رہا ہوں کہ وہ نہیں رکھ سکتے۔ ٹرمپ کے مطابق پوپ کی رضامندی یا ناراضگی ان کے فیصلے کو متاثر نہیں کرے گا۔
امریکی صدر نے وارننگ دی کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونے سے عالمی استحکام کو خطرہ لاحق ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو پوری دنیا یرغمال بن جائے گی اور ہم اسے ہونے نہیں دیں گے، میرا صرف یہی پیغام ہے۔ دراصل مارچ میں سینٹ پیٹرس اسکوائر میں ہفتہ وار ’اینجلس‘ دعا کے دوران پوپ نے کہا تھا کہ ہم اتنے لوگوں کی تکلیف کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتے، خاص طور سے ان بے بس لوگوں کے لیے جو ان کشیدگیوں کے شکار ہوئے۔ ان کا درد پوری انسانیت کا درد ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ دنیا کو صرف تشویش کا اظہار کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ امن کی سمت میں ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر نے ایران جنگ پر پوپ کی تنقید کے جواب میں پوپ کو جرائم کے حوالے سے کمزور اور غیر ملکی پالیسی میں بے حد خراب بتایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو میری تنقید کرے اور جو چاہتا ہو کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔