Jadid Khabar

ایک طرف ایران میں ایئر ڈیفنس سسٹم ہوا فعال، دوسری طرف ٹرمپ نے سرکردہ افسران کے ساتھ ’وار روم‘ میں کی میٹنگ

Thumb

مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ ایک طرف ایران میں ڈیفنس سسٹم فعال ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تو دوسری طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سرکردہ افسران کے ساتھ ’وارم روم‘ میں تقریباً 45 منٹ طویل میٹنگ کی ہے۔ اس سے خوف پیدا ہو چکا ہے کہ دونوں ممالک کہیں پھر سے جارحانہ انداز اختیار کر جنگ کو وسعت نہ دے دیں۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایران کی راجدھانی تہران میں جمعرات کی شب ایئر ڈیفنس سسٹم کے فعال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی میڈیا ’تسنیم‘ اور ’فارس‘ نے اطلاع دی ہے کہ یہ نظام چھوٹے ڈرون یا جاسوس طیاروں کو مار گرانے کے لیے فعال کیا گیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ محض مشق تھی یا کسی حقیقی خطرے کے جواب میں اٹھایا گیا قدم۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ بحری ناکہ بندی کو ایک مؤثر متبادل کے طور پر دیکھ رہا ہے، جو براہ راست حملہ کے مقابلے میں کم خطرناک، لیکن زیادہ دباؤ ڈالنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم امریکی فوجی منصوبہ ساز اس امکان کے لیے بھی تیار ہیں کہ ایران جوابی کارروائی کر سکتا ہے، جس سے پورے خطے میں تصادم مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
دوسری طرف امریکی سنٹرل کمانڈ‘ (سینٹ کام) کی جانب سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے مختلف متبادل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ اس بریفنگ سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن اب سفارت کاری کے ساتھ ساتھ فوجی دباؤ کو بھی تیز کرنے کے موڈ میں ہے۔ حکام کے مطابق تقریباً 45 منٹ طویل اس بریفنگ میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی نئی اور جارحانہ حکمت عملیوں پر تفصیل سے بات کی گئی۔ امریکی فوجی منصوبہ ساز اس بات کے لیے بھی تیار ہیں کہ اگر امریکہ ناکہ بندی یا حملہ کرتا ہے تو ایران خطے میں موجود امریکی افواج پر جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی بریفنگ میں جوائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی موجود تھے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سینٹ کام نے ٹرمپ کے سامنے ’شارٹ اینڈ انٹینس‘ یعنی کم وقت میں تیز اور درست حملوں کی حکمت عملی پیش کی، جس کے تحت ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد ایران کو مجبور کرنا ہے کہ وہ جوہری معاملے پر اپنے مؤقف میں نرمی لائے اور دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔
جب صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے ایران کے ساتھ ممکنہ بات چیت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’وہ (ایران) چھپے بیٹھے ہیں اور معاہدہ چاہتے ہیں...۔‘‘ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔
بہرحال، سینٹ کام کی جانب سے پیش کیے گئے متبادل میں ہائپر سونک ’ڈارک ایگل‘ میزائلوں کی تعیناتی بھی شامل ہے، جو تیز اور انتہائی درست حملوں کے لیے مقبول ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اہم تجویز آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول قائم کرنے کی بھی ہے تاکہ عالمی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس طرح کے متبادل میں زمینی افواج کی تعیناتی بھی شامل ہو سکتی ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مزید ایک اسٹریٹجک تجویز میں ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے خصوصی فورسز کی کارروائی شامل ہے۔ یہ قدم ایران کے جوہری پروگرام کو براہ راست متاثر کر سکتا ہے اور عالمی سلامتی کے لحاظ سے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر موجودہ صورتحال یہ اشارہ دیتی ہے کہ امریکہ دوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جہاں ایک طرف مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف فوجی متبادل کو بھی پوری طرح تیار رکھا گیا ہے۔ آنے والے دن طے کریں گے کہ یہ کشیدگی سفارتی حل کی طرف بڑھے گی یا کسی بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہو جائے گی۔