غازی پور میں عصمت دری کے بعد قتل کے معاملے پر مودی یوگی جواب دیں: راہل-پرینکا
نئی دہلی، 25 اپریل (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے اتر پردیش کے غازی پور میں عصمت دری کے بعد نوجوان خاتون کے قتل اور قاتلوں کے دباؤ میں ایف آئی آر درج نہ کرنے والے پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے جواب طلب کیا ہے۔
مسٹر گاندھی اور محترمہ واڈرا نے ہفتہ کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس واقعے کو انتہائی افسوسناک صورتحال قرار دیا اور کہا کہ جب تک متاثرہ بیٹی زندہ تھی تب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اور ایف آئی آر درج کرانے کے لیے آنے والے خاندان کے افراد کو دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔ مسٹر گاندھی نے کہا، "اتر پردیش کے غازی پور میں وشوکرما سماج کی ایک بیٹی کے ساتھ عصمت دری اور بے رحمانہ قتل - اور پھر خاندان کو ایف آئی آر درج کرانے سے روکنے کے لیے دھمکیاں، تشدد۔ ہاتھرس، کٹھوعہ، اناؤ اور آج غازی پور - یہ ایک پیٹرن ہے۔ منی پور کی بیٹی نے انصاف کی راہ دیکھتے دیکھتے دم توڑ دیا۔ ہر بار وہی چہرہ - متاثرہ دلت، پسماندہ، قبائلی، غریب۔ ہر بار وہی سچائی - مجرم کو تحفظ، متاثرہ کو اذیت۔"
انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پر کوئی کچھ نہیں بولتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر بار اقتدار کی وہی خاموشی ہے جنہیں بولنا چاہیے تھا۔ جس ملک اور ریاست میں ماں باپ کو اپنی بیٹی کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے بھیک مانگنی پڑے، اس ملک کی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں۔ مسٹر گاندھی نے ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور ریاست کے وزیر اعلیٰ سے جواب مانگا اور کہا، "مجرم پولیس افسروں پر کارروائی ہو، خاندان کو تحفظ ملے - اعلیٰ سطحی جانچ ہو اور فوری انصاف ملے۔ مودی جی، وزیر اعلیٰ جی جواب دیجیے - آپ کے راج میں بیٹیاں اتنی غیر محفوظ کیوں ہیں۔ ایسے حالات میں انصاف مانگا نہیں، چھینا جاتا ہے اور ہم چھین کر لائیں گے۔"
محترمہ واڈرا نے لکھا، "اتر پردیش کے غازی پور میں ایک لڑکی کے قتل کے معاملے میں پہلے کیس درج ہونے میں لیت و لعل، پھر متاثرہ خاندان کو دھمکیاں ملنا اور غنڈہ عناصر کے ذریعے لاقانونیت پھیلانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست میں خواتین کے خلاف مظالم انتہا پر ہیں۔" انہوں نے کہا، "بی جے پی کے دور حکومت میں اب یہی غیر اعلانیہ قانون بن گیا ہے کہ جب بھی کسی خاتون پر ظلم ہوتا ہے تو متاثرہ کو ہی مزید ہراساں کیا جاتا ہے۔" وزیر اعظم مودی پر خواتین کی حفاظت کے حوالے سے سنجیدہ نہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا، "خواتین کے بارے میں وزیر اعظم کی بڑی بڑی باتیں صرف دکھاوا ہیں۔ اناؤ ہو، ہاتھرس ہو، پریاگ راج ہو یا غازی پور، جہاں بھی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوئی، بی جے پی اپنی پوری طاقت کے ساتھ متاثرہ کے خلاف اور ظالم کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ پورے ہندوستان کی خواتین یہ اندھیر نگری دیکھ رہی ہیں۔"