پے ٹی ایم کو ریزرو بینک آف انڈیا کا بڑا جھٹکا، پیمنٹ بینک کا لائسنس منسوخ
ریزرو بینک آف انڈیا نے ایک اہم پیش رفت میں پے ٹی ایم پیمنٹ بینک لمیٹڈ کا بینکاری لائسنس منسوخ کر دیا ہے، جس کے بعد کمپنی اب کسی بھی طرح کی بینکاری سرگرمی انجام نہیں دے سکے گی۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ بینکاری ضابطوں کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں کے سبب لیا گیا ہے، جو نہ صرف صارفین بلکہ عوامی مفاد کے لیے بھی نقصان دہ سمجھی گئی ہیں۔
ریزرو بینک آف انڈیا نے واضح کیا کہ بینکاری ضابطہ ایکٹ 1949 کی دفعہ 22(4) کے تحت جاری کیا گیا لائسنس 24 اپریل 2026 کو کاروباری اوقات کے اختتام پر منسوخ کر دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ پے ٹی ایم پیمنٹ بینک کے معاملات اس انداز میں چلائے جا رہے تھے جو جمع کنندگان کے مفاد کے خلاف تھے، اور بینک کی انتظامیہ کا عمومی کردار بھی عوامی مفاد سے ہم آہنگ نہیں تھا۔
مرکزی بینک کے مطابق موجودہ حالات میں پے ٹی ایم پیمنٹ بینک کو مزید کام جاری رکھنے کی اجازت دینا نہ تو کسی مفید مقصد کو پورا کرتا اور نہ ہی عوامی مفاد میں تھا۔ اسی لیے سخت قدم اٹھاتے ہوئے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ریزرو بینک آف انڈیا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بینک کی باضابطہ بندش کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرے گا۔
اس فیصلے کے اثرات فوری طور پر سامنے آئیں گے کیونکہ اب پے ٹی ایم پیمنٹ بینک کسی بھی قسم کی بینکاری خدمات، جیسے جمع رقوم لینا، ادائیگیاں کرنا یا دیگر مالی سرگرمیاں انجام دینے کا مجاز نہیں رہے گا۔ تاہم مرکزی بینک نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ بینک کے پاس اپنے صارفین کی تمام جمع شدہ رقوم واپس کرنے کے لیے مناسب نقدی موجود ہے، جس سے صارفین کے مالی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پے ٹی ایم پیمنٹ بینک کے خلاف کارروائی کی گئی ہو۔ اس سے قبل 11 مارچ 2022 کو ریزرو بینک آف انڈیا نے بینک کو نئے صارفین شامل کرنے سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں جنوری 2024 میں مزید سختی کرتے ہوئے بینک کو نئے ڈپازٹ قبول کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ان اقدامات کی وجہ بھی ضابطوں کی عدم پاسداری اور ٹیکنالوجی سے متعلق مسائل بتائے گئے تھے۔