Jadid Khabar

مغربی بنگال میں78. فیصد ووٹنگ

Thumb

 
کولکاتہ، 23 اپریل (یو این آئی) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ابتدائی چھ گھنٹوں کے دوران دوپہر ایک بجے تک 78. فی صد ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
 
ریاست کے مغربی میدنی پور ضلع میں سب سے زیادہ 65.77 فی صد جب کہ مالدہ ضلع میں سب سے کم 58.45 فی صد ووٹنگ درج کی گئی۔ ریاست کے 16 اضلاع میں سے چار اضلاع میں 60 فی صد سے کم اور 12 اضلاع میں 60 فی صد سے زیادہ ووٹنگ ہوئی۔ بیر بھوم ضلع میں کانگریس اور ترنمول کانگریس کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ میں کانگریس کا ایک کارکن زخمی ہو گیا۔ اس کے علاوہ کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی اور ووٹنگ پرامن طریقے سے جاری ہے۔
ریاست میں کل 294 اسمبلی نشستیں ہیں جن میں سے پہلے مرحلے میں آج 152 نشستوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ووٹنگ صبح سات بجے شروع ہوئی اور شام چھ بجے تک جاری رہے گی۔ شدید گرمی کے باوجود تمام پولنگ مراکز پر صبح سے ہی ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔
 
مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے لیے 16 اضلاع میں 44,378 پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اس مرحلے میں شمالی بنگال کے آٹھ، جنوبی بنگال کے تین اور جنگل محل علاقے کے پانچ اضلاع کے ووٹر ووٹ ڈال رہے ہیں۔ ان اضلاع میں پورولیا، بانکوڑا، جھارگرام، مغربی میدنی پور، مشرقی میدنی پور اور جنوبی 24 پرگنہ شامل ہیں۔ جن نشستوں پر سخت مقابلہ متوقع ہے ان میں نندی گرام، کھڑگپور، پورولیا، بانکوڑا اور جھارگرام شامل ہیں۔
 
ریاست میں دوسرے مرحلے کے انتخابات 29 اپریل کو ہوں گے جس میں 142 نشستوں پر ووٹنگ کرائی جائے گی۔
 
الیکشن کمیشن نے انتخابات کو پرامن بنانے کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور حساس علاقوں میں مرکزی مسلح پولیس فورس کی بھاری تعیناتی کی گئی ہے۔ کمیشن نے ضلع مرشدآباد کے ڈومکل علاقے میں بائیں بازو کے حامیوں کو مبینہ طور پر ووٹ ڈالنے سے روکنے کے معاملے میں رپورٹ طلب کی ہے۔
 
انتخابی عمل کے دوران سیلی گڑی اور ماتی گاڑہ میں بین الاقوامی مبصرین کے ایک وفد نے ووٹنگ کے عمل کا براہِ راست مشاہدہ کیا۔
 
پہلے مرحلے میں کل 1,478 امیدوار میدان میں ہیں۔ اس مرحلے میں ووٹروں کی کل تعداد 3.60 کروڑ سے زائد ہے، جن میں 1.84 کروڑ مرد، 1.74 کروڑ خواتین اور 465 خواجہ سرا شامل ہیں۔ مغربی بنگال میں کل 6.44 کروڑ ووٹر ہیں۔ اصل مقابلہ ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان ہے جبکہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی بھرپور مقابلہ کر رہی ہیں۔
 
ووٹنگ کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو سیل کر کے گنتی مراکز کے اسٹرونگ روم میں منتقل کیا جائے گا، جہاں 24 گھنٹے سکیورٹی اہلکار تعینات رہیں گے۔
 
ووٹوں کی گنتی چار مئی کو ہوگی اور اسی دن نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔