’چین سے کاروبار بند کریں ورنہ 100 فیصد لگائیں گے ٹیرف‘، ڈونالڈ ٹرمپ نے اب کینیڈا کو دی دھمکی
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اب کینیڈا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اوٹاوا نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم نہیں کیا تو امریکہ اس پر 100 فیصد ٹیرف (محصولات) عائد کر دے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قدم امریکی تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے جمعہ کو کہا تھا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ شمالی امریکہ کے تجارتی معاہدے کو محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کینیڈا کے تجارتی مذاکراتی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ بہت خراب ہیں‘‘۔
ٹرمپ انتظامیہ میں محکمہ کامرس کے ترجمان نے کہا کہ لٹنک امریکہ اور کینیڈا کے درمیان غیر متوازن تجارت کی طرف اشارہ کر رہے تھے اور یہ بتا رہے تھے کہ کینیڈا کس طرح امریکہ کی 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ میڈیا آؤٹ لیٹ ’سیما فور‘ کی طرف سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لٹنک نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف کینیڈا کے موقف پر تنقید کی۔ انہوں نے کینیڈا کے ایک سابق تجارتی اہلکار کی اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ کینیڈا مذاکرات کو سست کر کے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ اسے انہوں نے ’’اب تک کی سب سے خراب حکمت عملی‘‘ قرار دیا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ٹرمپ امریکہ-میکسیکو-کینیڈا معاہدہ (یوایس ایم سی اے) کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، لنٹک نے کہا کہ صدر اسے ’خراب معاہدہ‘ مانتے ہیں۔ لنٹک نے کہا کہ خواہ کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ امریکہ کے کچھ تعلقات ’بنیادی‘ ہیں، لیکن مجموعی طور پر تجارتی معاہدہ ’خراب صنعتی پالیسی‘ ہے جس نے امریکہ کو نقصان پہنچایا ہے۔