لکھنؤ، 14 اپریل (یواین آئی) اتر پردیش کے سابق وزیرِاعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے منگل کے روز بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نوئیڈا میں پیش آنے والے واقعے کو لے کر ریاستی حکومت پر سخت حملہ کیا۔
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر نے اسے حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس مکمل طور پر ناکام رہی اور انتظامیہ کو پہلے سے اطلاع ہونے کے باوجود واقعہ ہونے دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ کوئی بڑی سازش ہے تو اس کی ذمہ داری براہِ راست وزیرِاعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سال 2027 میں بی جے پی کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا اور ان کی پارٹی بابا صاحب کے آئین پر مبنی معاشرے کا قیام کرے گی۔
اکھلیش یادو نے وزیرِاعلیٰ پر ذاتی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سے بڑا جھوٹ بولنے والا کوئی "سنت" نہیں ہے۔ انہوں نے انہیں "نقلی سنت" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت کا آئین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ایس پی سربراہ نے کہا کہ بی جے پی کے رہنما شکست کے خوف سے روپوش ہو گئے ہیں، لیکن عوام مل کر انہیں ہرانے اور اقتدار سے ہٹانے کا کام کرے گی۔ انہوں نے بھیم راؤ امبیڈکر کے آئین کو "لوہے کی تلوار" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے عوام کو انصاف اور عزت دلانے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کے دوران بابا صاحب کے مجسموں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے اور انتخابات سے پہلے بجٹ کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ریاست میں دلتوں، پسماندہ طبقات اور پی ڈی اے طبقے کے خلاف امتیاز جاری ہے، تاہم عوام اب ان سازشوں کو سمجھ چکی ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ سماجی انصاف کے قیام کے لیے ان کی جدوجہد مسلسل جاری رہے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے 400 سے زائد نشستیں جیتنے اور آئین بدلنے کے دعوے کیے گئے تھے، لیکن اتر پردیش کی عوام نے ووٹنگ کے ذریعے آئین اور جمہوریت کا تحفظ کیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا