دہلی فسادات کے ملزمان میں سے ایک عمر خالد نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ رواں سال 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت عرضی خارج کر دی تھی۔ اب عمر خالد نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے نظر ثانی کی ایک دراخواست داخل کی ہے۔ عمر خالد نے اپنی اس عرضی میں سپریم کورٹ سے ایک خاص اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نظر ثانی کی اس درخواست پر ’اوپن کورٹ‘ (کھلی عدالت) میں سماعت کی جائے۔ قوانین کے مطابق نظر ثانی کی درخواستوں پر جج اپنے چیمبر میں ہی غور و خوض کرتے ہیں۔ لیکن عمر خالد چاہتے ہیں ان کے دلائل کھلی عدالت میں سنے جائیں۔
سینئر وکیل کپل سبل نے پیر (13 اپریل) کو عدالت میں عمر خالد کی اس ریویو پیٹیشن کا تذکرہ کیا۔ بنچ نے اس معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے بدھ (15 اپریل) کو سماعت کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ عمر خالد کے معاملے کو ’اوپن کورٹ‘ میں رکھنے کی اپیل پر چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے کہا کہ وہ غور و فکر کے بعد اس کا فیصلہ کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں ںے کہا کہ ’’ہم اسے دیکھیں گے اور اس کے بعد سماعت کا طریقۂ کار طے کریں گے۔‘‘
گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے عمر خالد کو بیل دینے سے واضح طور پر انکار کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ عمر خالد دہلی فسادات سے متعلق معاملے میں طویل عرصے سے جیل میں بند ہیں۔ ان پر دہلی فسادات کی سازش رچنے اور ’یو اے پی اے‘ کے تحت الزام عائد کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹ نے بھی ان کی ضمانت عرضیوں کو خارج کر دیا تھا۔ اب 15 اپریل کی سماعت میں یہ طے ہوگا کہ کیا سپریم کورٹ اپنے پرانے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس بات پر نظر رہے گی کہ عدالت قوانین میں نرمی اختیار کرتے ہوئے اس عرضی پر کھلی عدالت میں سماعت کرتی ہے یا نہیں۔