Jadid Khabar

با بری مسجد ریویو پٹیشن پر واویلا کیوں؟

Thumb

یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ نے ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی عرضی داخل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ممبران کی میٹنگ کے بعد بورڈ کے چیئر مین نے لکھنؤمیں کہا کہ’’ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھلے ہی ہمارے حق میں نہیں ہے لیکن ملک میں امن وامان اور بھائی چارہ بر قراررکھنے کے لئے ہم اس فیصلے کو تہہ دل سے قبول کرتے ہیں۔‘‘وقف بورڈ کے اس اعلان پر کسی کو اس لئے حیرت نہیںہوئی کہ وہ پہلے ہی با بری مسجد کے مقدمے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرچکا تھا ۔بورڈ نے وقف کی جائیداد کانگراں ہونے کے باوجود مسجد کی سودے بازی کا جو شرم ناک کام انجام دیا ہے‘ اس کے لئے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ تاہم وقف بورڈ کے چیئرمین نے اپنے بیان میں امن وامان اور بھائی چارہ قائم رکھنے کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے‘ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ریویو پٹیشن کی مخالفت کرنے والے دیگر لوگوں کی بھی دلیل یہی ہے کہ اس سے ملک کے امن وامان کو نقصان پہنچے گا۔گویا بابری مسجد کا مقدمہ ہارنے کے بعد اب مسلمانوں سے ملک کے وسیع تر مفاد میں یہ مطالبہ بھی کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے تمام دستوری اور قانونی حقوق سے بھی دستبردار ہوجائیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں امن وامان بر قرار رکھنے کی ذمہ داری صرف مسلمانوں کے کاندھوں پر ہے ؟کیونکہ با بری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل اور اس کے بعد جس تعداد میں مسلمانوں سے امن وامان قائم رکھنے کی اپیلیں کی گئی ہیں اور اب جس طرح امن وامان کی برقراری کے لئے ریویو پٹیشن داخل نہ کرنے کا دبائو ڈالا جارہا ہے‘ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس ملک میں نظم ونسق برقرار رکھنا صرف اور صرف مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں اکثریتی فرقہ ،سرکاری مشینری اور عدالتی نظام پوری طرح بری الذمہ ہیں ۔اس ملک میں امن وامان کو بگاڑنے اور حالات کو خراب کرنے میں جن لوگوں کا ہاتھ رہا ہے‘ ان کی نشاندہی حال ہی میں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے کی ہے۔انہوں نے نیوز چینل ’ٹائمز نائو ‘کو انٹریو دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ سنگھ پریوار سے وابستہ ہندو ہی ماحول کو بگاڑتے ہیں اور مسلمانوں نے کبھی امن کو نقصان پہنچانے والا کام نہیں کیا ۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ با بری مسجد کے انہدام میں شامل ہندو طالبانی ذہنیت کے حامل ہیں ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ایودھیا تنازعہ کی وجہ سے اس ملک میں با ر بار بد امنی پھیلی ہے ۔قتل وغارت گری کا بازار گرم ہوا ہے اور لوگوں نے مہینوں کرفیو اور پولیس مظالم جھیلے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کا یہ سوچ کر خیر مقدم بھی کیا گیاہے کہ عدالت نے ایک ایسے سنگین تنازعہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ہے جو ملک کے امن وامان کے لئے مستقل خطرہ بنا ہوا تھا ۔لیکن یہاں اہم سوال یہ ہے کہ اس تنازعہ کو کس نے کھڑا کیا تھا اور وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اس تنازعہ کی آگ میں اپنی سیاسی روٹیاں سینکی ہیں۔کن لوگوں نے اس معاملے میں اشتعال انگیزی کی ہے اور مسلمانوں کے خلاف ماحول پیداکیا ہے ۔ظاہر ہے ان تمام سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ اس تنازعہ کو فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے کھڑاکیا تھا اور انہوں نے ہی قدم قدم پر اس کا سیاسی استحصال بھی کیا ۔اگر آپ آرایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے رام جنم بھومی آندولن کا سرسری جائزہ بھی لیں تو پائیں گے کہ مسلمان ہی اس پوری تحریک کا سب سے بڑا ایندھن رہے ہیں‘ جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں اپنی جانیں قربان کی ہیں۔اب جبکہ سپریم کورٹ نے اس تنازعہ کوہندوئوں کے حق میں فیصل کردیا ہے تو اب بھی مسلمانوں سے ہی کہا جارہا ہے کہ وہ امن وامان اور بھائی چارہ قائم رکھنے کے لئے سب کچھ برداشت کرلیں ۔یعنی وہ اپنے زخموں کو پی جائیں اور اپنے آنسوئوں کو فنا کردیں ۔اس صورت حال پر یہ شعر صادق آتا ہے ۔
نہ تڑپنے کی اجازت ہے‘ نہ فریاد کی ہے 
گُھٹ کے مرجائوں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے 
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ریویو پٹیشن داخل کرنے کی جو تیاری کی ہے‘ اس پر بھانت بھانت کی بولیاں سنائی دے رہی ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس قدم سے بھائی چارے کے ماحول کو نقصان پہنچے گا اور اس سے مسلمانوں کو کچھ حاصل بھی نہیں ہوگا‘لہٰذا یہ قدم نہیں اٹھایا جانا چاہئے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس معاملے میں وہ لوگ بھی مشورہ دے رہے ہیں جن کا نہ تو اس تنازعہ سے کوئی تعلق ہے اور نہ وہ اس کی بنیادی سمجھ رکھتے ہیں ۔ قومی اقلیتی کمیشن کے چیئر مین غیور الحسن رضوی نے ریویو پٹیشن کو اس اعتبار سے خطرناک قرار دیا ہے کہ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ مسلمان جان بوجھ کر رام مندر کی تعمیر میں روڑے اٹکا رہے ہیں ۔مسٹر رضوی کی مجبوری ہماری سمجھ میں آتی ہے کیونکہ وہ بی جے پی سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں اقلیتی کمیشن کا چیئر مین اسی لئے بنایا گیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے مفادات سے زیادہ اپنی پارٹی کے مفادات کا خیال رکھیں۔اس لئے ہمیں ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ لیکن ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ بعض مسلم دانشور اس معاملے میں کیوں ٹانگ اڑارہے ہیں ۔ بعض مسلم لیڈروں کا رویہ بھی نا قابل فہم ہے ۔ظاہر ہے ان لوگوں کو مسلمانوں کے اس درد و کرب کا قطعی اندازہ نہیں ہے جس سے وہ اس وقت لمحہ لمحہ گذررہے ہیں ۔
با بری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اس فیصلے کو بے چون وچرا قبول کر لیا ہے ۔اس معاملے میں ان کی خاموشی کو رضا مندی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں مسلمان خود کو بے یار ومدد گار تصور کررہے ہیں ۔قانونی ماہرین اور کئی سبکدوش ججوں کا خیال ہے کہ عدالت نے اس معاملے میں انصاف سے زیادہ آستھا کو اہمیت دی ہے۔خود اس معاملے کے مدعی مسلم پرسنل لاء بورڈ نے جن بنیادوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو اصول انصاف کے مطابق نہیں پایا ہے وہ بنیادیں بہت مضبوط ہیں۔مثال کے طورپر جب 1949میں جبراً رکھی گئی مورتیوں کو عدالت نے غیر قانونی مانا ہے تو پھر انہیں دیوی دیوتا کیوں تسلیم کیا گیا ۔کیونکہ جبراً رکھی گئی مورتیاں خود ہندو دھرم شاستروں کے مطابق دیوی دیوتا نہیں ہوسکتیں۔دوسرا سوال یہ ہے کہ جب عدالت نے 1857سے 1949تک با بری مسجد پر مسلمانوں کا قبضہ اور وہاں نماز کا پڑھا جانا ثابت تسلیم کیا ہے تو پھر کس بنیاد پر مسجد کی زمین رام للا کو دے دی گئی ؟تیسرا سوال یہ ہے کہ آئین کی دفعہ 142کا استعمال کرتے وقت فاضل ججوں نے اس بات پر غورکیوں نہیں کیا کہ وقف ایکٹ مجریہ 1995کے مطابق مسجد کی زمین کا لین دین یا منتقلی نہیں کی جا سکتی تواس قانونی روک کے باوجود آئین کی دفعہ 142کے تحت مسجد کی زمین کے بدلے میں دوسری زمین کیسے دی جا سکتی ہے۔جبکہ خود سپریم کورٹ نے اپنے دیگر فیصلوں میں یہ وضاحت کر رکھی ہے کہ دفعہ 142کے اختیارات معزز ججوں کے لئے لا محدود نہیں ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں با بری مسجد میں رکھے گئے بتو ں کو ناجائز ،با بری مسجد کے انہدام کو غیر قانونی اور مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر نہ کئے جانے کی حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود اپنا فیصلہ رام للا کے حق میں صادر کیا ہے۔ظاہر ہے عدالت کے احترام اور وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں نے اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس معاملے پر امن وامان میں خلل ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔وہ تو صرف اپنے قانونی اور دستوری اختیار کے تحت سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی عرضی داخل کرنا چاہتے ہیں جس پر غیر ضروری واویلا مچایا جارہا ہے ۔جہاں تک ملک میں امن وامان برقرار رکھنے کا سوال ہے تو یہ بات ایک عام آدمی کی سمجھ میں بھی آتی ہے کہ عدل وانصاف قائم کئے بغیر امن وامان کی توقع کرنا فضول ہے ۔ایک امن پسند معاشرے کی تشکیل اسی وقت ممکن ہے جب معاشرے میں رہنے والے ہر فرد کے ساتھ بلا تفریق مذہب وملت انصاف کیا جائے اور کسی کو بھی دویم درجے کا شہری نہ سمجھا جائے۔