Jadid Khabar

بابری مسجد کی سودے بازی

Thumb

سپریم کورٹ نے آزاد ہندوستان کے سب سے پیچیدہ اور سنگین مقدمے کی سماعت مکمل کر لی ہے ۔چالیس دنوں تک چلی اعصاب شکن بحث کے بعد عدالت نے ایودھیا تنازعہ پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔امید ہے کہ آئندہ ماہ عدالت اس امر کا فیصلہ سنا دے گی کہ بابری مسجد کا حق ملکیت کس کا ہے اوراس میں عبادت کرنے کا اختیار کس کو حاصل ہے ۔لیکن اس درمیان عدالت کو گمراہ کرنے اور مسلمانوں کو حیرتوں میں ڈالنے کے لئے مصالحتی کمیٹی نے ایک ایسی مہر بند رپورٹ عدالت میں پیش کی ہے جس کی تفصیلات قبل از وقت ہی منظر عام پر آگئی ہیں اور اس سے خاصہ ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے ۔اس رپورٹ کے مطابق یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ نے بابری مسجد کی اراضی پر اپنا دعویٰ چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے ۔حالانکہ مصالحتی کمیٹی پہلے ہی اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو اپنی رپورٹ پیش کر چکی تھی لیکن درمیان میں اس نے اس سلسلے کو جاری رکھنے کی جو اجازت مانگی تھی وہ کسی خاص جانب دارانہ سرگرمی کا حصہ معلوم ہوتی تھی۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے راز داری کی بنیاد پر مصالحتی کمیٹی کو اپنا کام کرنے کی اجازت دی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر کمیٹی کو موصول ہونے والی تجویز کی تفصیلات پہلے ہی منظر عام پر آگئیں اور لوگوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ کچھ لوگ بابری مسجد کی سودے بازی کرنے میں مصروف ہیں۔اس سے قبل لکھنو ٔمیں کچھ نام نہاد مسلم دانشوروں نیبھی ایک اجلاس کرکے بابری مسجد اراضی سرکار کے حوالے کرنے کی زور دار وکالت کی تھی۔ظاہر ہے ان کوششوں کے پیچھے وہی عناصر سرگرم تھے جو عدالت میں اپنی ممکنہ شکست سے خوف زدہ ہیں اور حتمی فیصلہ آنے سے قبل ضمیر فروش مسلمانوں کو خرید کر اپنا الّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔
یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں ہے کہ بابری مسجد کے سوداگر اپنی تمام بے شرمی اور بے غیرتی کے ساتھ میدان میں اترے ہیں بلکہ اس سے قبل کئی مرتبہ اس قبیل کے لوگ اس قسم کی ناکام کوششیں کرچکے ہیں ۔اطمینان بخش بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی کوششوں کو ہر بار ناکام بنا دیا ہے اور ان لوگوں کا سماجی بائیکاٹبھی کردیا ہے جو مسلمانوں جیسے نام رکھ کر خدا کے گھر کی سودے بازی کے مذموم کام میں ملو ث رہے ہیں ۔اب تک تو یہ کام وہ مفاد پرست لوگ کررہے تھے جن کا اس مقدمے سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب بابری مسجد حق ملکیت مقدمے کا ایک فریق سنی سینٹرل وقف بورڈ خم ٹھونک کر میدان میں آیا ہے اور اس نے متنازعہ اراضی پر اپنا دعویٰ چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔اس نوعیت کی ایک مہر بند رپورٹ عدالت کو سونپتے ہوئے مصالحتی کمیٹی کے ممبر سکریٹری شری رام پنچھو نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے چیئر مین زیڈ فاروقی کو سیکورٹی فراہم کی جائے کیونکہ ان کی جان کو خطرہ ہے لہٰذا یوپی حکومت نے انہیں فوری طور پر سیکورٹی فراہم کردی ہے اور وہ سرکاری مہمان بن گئے ہیں ۔حالانکہ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ یوپی سنی سینٹرل وقف بورڈ اترپردیش کی یوگی سرکار کے تحت ایک سرکاری ادارہ ہے اور اس کا چیئر مین حکومت کا تنخواہ دار ملازم ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ کوئی بھی وقف بورڈ جو کہ اوقافی جائیدادوں کا محض نگراں ہوتا ہے‘ اسے یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ کسی وقف جائیداد اور وہ بھی ایک مقدس مسجد کی سودا گری کا حوصلہ دکھائے۔
اترپردیش سنی سینٹرل وقف بورڈ نے بابری مسجد اراضی سے دستبردار ہونے کی جو بات مصالحتی کمیٹی کے توسط سے عدالت میں کہی ہے‘ اس میں بعض شرائط بھی رکھی گئی ہیں ۔یعنی ایودھیا کی کچھ مسجدوں کی مرمت کے علاوہ محکمہ آثار قدیمہ کے زیر انتظام مسجدوں میں عبادت کی منظوری اور تمام مذہبی مقامات پر 1947سے پہلے والی صورت حال برقرار رکھنے کے قانون کے نفاذ کی شرط بھی شامل ہے ‘جسے1991میں نرسمہا رائو سرکار نے پاس کیا تھا ۔واضح رہے کہ اس رپورٹ میں سنی سینٹرل وقف بورڈ ،نروانی اکھاڑہ،ہندو مہا سبھا اور رام جنم بھومی پنر ادھار سمیتی کے نمائندوں کے دستخط ہیں ۔جب کہ اس مقدمے میں فریقین کی تعداد 20ہے ۔ مسلم فریقوں کی طرف سے 6وکیلوںنے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنی وقف بورڈ کے علاوہ کسی بھی فریق کو یہ معاہدہ منظور نہیں ہے۔مسلم فریقوں نے ثالثی پینل کے سامنے ہوئی باتوں کو جان بوجھ کر لیک کئے جانے کا بھی الزام لگایا ہے اور ثالثی کے لئے اختیار کردہ طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمجھوتے کے لئے زمین پر دعویٰـ واپس لینے کی شرط ہمیں منطور نہیں ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنی سینٹرل وقف بورڈ کی طرف سے جو شرائط پیش کی گئی ہیں‘ ان میں آثارقدیمہ کے زیر انتظام سینکڑوں تاریخی مسجدوں میں نماز کی آزادی دینے کی شرط سب سے اہم ہے اور اس پر کئی مواقع پر بحث بھی ہوچکی ہے ۔دہلی سمیت ملک کے مختلف شہروںمیں موجود مسلم دورحکومت کی تعمیرشدہ یہ مساجد زبان حال سے اپنی بے کسی کا نوحہ بیان کررہی ہیں جہاں سیاحوں کو جوتوں سمیت گھومنے کی تو آزادی ہے لیکن مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ اس با ت کی کیا گارنٹی ہے کہ بابری مسجد سے دستبردار ہوجانے کے بعد فرقہ پرستوں اور شرپسندوں کی ریشہ دوانیاں ختم ہوجائیں گی۔یہ بات اس لئے کہی جاری ہے کہ وشو ہندو پریشد کے پاس آج بھی ایسی تین ہزار مسجدوں کی فہرست ہے جو اس کے خیال میں مندروںکو توڑ کر بنائی گئی ہیں اور وہ ان مسجدوں کی واپسی چاہتے ہیں ۔ان میں بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عید گاہ سب سے اہم ہیں‘ جہاں آج بھی باقاعدہ نماز ہوتی ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ ابھی بابری مسجد کا مسئلہ حل بھی نہیں ہوا ہے اور شرپسندوں نے کاشی اور متھرا کی مسجدوں کا معاملہ چھیڑ دیا ہے ۔لکھنؤاکھاڑہ پریشد نے دھمکی دی ہے کہ رام مندر کے بعد اب کاشی اور متھرا کے لئے بھی تحریک تیز کی جائے گی۔اکھاڑا پریشد کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرکز اور یوپی دونوں جگہ ہندوئوں کی حکومت ہے اس لئے ان تینوں مقامات پر مندر کی تعمیر میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے ۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اکھاڑا پریشد نے کاشی اور متھرا کی مسجدوں پر قبضے کے لئے اپنی تحریک تیز کرنے کا اعلان مسلمانوں پر دبائو ڈالنے اور انہیں خوف زدہ کرنے کے لئے کیا ہے تاکہ وہ دبائومیں آکر بابری مسجد سے دستبرداری کے اعلان پر رضا مند ہوجائیں۔لیکن وشو ہندو پریشد اور اکھاڑا پریشد جیسی سنگھ پریوار کی تنظیموں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ بابری مسجد کی لڑائی محض ایک عبادت گاہ اور عمارت کی لڑائی نہیں ہے بلکہ اس لڑائی سے مسلمانوں کا مذہبی تشخص وابستہ ہے جسے سنگھ پریوارمٹانا چاہتا ہے۔ہزاروں مسلمانوں نے بابری مسجد کے لئے اپنی قیمتی جانیں اس لئے قربان نہیں کی تھیں کہ چند ضمیر فروش اور نام نہاد مسلمان ذاتی فائدے کے لئے بابری مسجد کا سودا کرتے پھریں بلکہ انہوں نے اپنی جانیں اس لئے قربان کیں کہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہے اور یہاں کا دستور دیگر مذاہب کی طرح مسلمانوں کو بھی مکمل آزادی عطا کرتا ہے ۔بابری مسجد کے مقدمے کا فیصلہ دراصل یہ ثابت کرے گا کہ اس ملک میں جنگل راج قائم ہوگا یا پھر دستور کی حکمرانی باقی رہے گی ۔ظاہر اگر بابری مسجد طشتری میں سجا کر شرپسندوں کو پیش کردی گئی تو اس ملک میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت خطرے میں پڑ جائے گی ۔اس کے بعد کوئی بھی شرپسند عددی طاقت کے بل پر یہاں کی اقلیت کو دبانے اور کچلنے کی کوشش کرے گا۔عدالتیں ثبوتوں اور شہادتوں کی بجائے  عقیدے اور آستھا کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگیں گی تو اس ملک سے انصاف اور انسانیت کا جنازہ نکل جائے گا ۔
مسلمانوں کو اس بات پر اطمینان رکھنا چاہئے کہ بابری مسجد کے مقدمے کی سب سے مضبوط پیروی ایک ہندو وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے کی ہے اور اس کام کے لئے انہوں نے کسی فریق سے ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا ہے ۔حالانکہ بعض شہرت پسند  ملی تنظیموں نے ہر روز پریس ریلیز جاری کرکے انہیں اپنا وکیل ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن حقیقت میں ڈاکٹر راجیو دھون نے یہ لڑائی انسانیت اور سچائی کے لئے بلا معاوضہ لڑی ہے اور انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ حق کے لئے لڑنا ہی سب سے بڑا جہاد ہے ۔سپریم کورٹ میں جس روز اس مقدمے کی سماعت مکمل ہورہی تھی تو عدالت کو گمراہ کرنے کے لئے مخالف فریق نے رام مندر کا ایک فرضی نقشہ پیش کرنے کی کوشش کی تو ڈاکٹر راجیو دھون اس پر ناراض ہوگئے اور انہوں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ آخر میں انہوں نے علامہ اقبال کے یہ دو شعر بھی پڑھے۔
وطن کی فکر کر نا داں مصیبت آنے والی ہے 
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں 
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں