Jadid Khabar

ہجومی تشدد کو جائز ٹھہرانے کی شرمناک کوشش

Thumb

لنچنگ سے متعلق آرایس ایس چیف موہن بھاگوت کے تازہ بیان سے تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے ۔لنچنگ کو غیر ملکی اصطلاح قرار دینے اور اس کا شکار ہونے والوں کے بارے میں زبان نہ کھولنے پر بھاگوت پر سخت تنقید کی جارہی ہے اور اسے شتر مرغ کی پالیسی سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔پوری دنیا جانتی ہے کہ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے موب لنچنگ یعنی ہجومی تشدد کی وارادتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے اور اس کا سب سے زیادہ شکار مسلمان ہوئے ہیں ‘جو روزِ اول سے سنگھ پریوار کے نشانے پر ہیں ۔ملک میں لگاتار بڑھ رہی لنچنگ کی وارداتوں پر اندرون ِ ملک ہی نہیں بلکہ بیرونی دنیا میں بھی تشویش پائی جاتی ہے ۔اس انتہائی تکلیف دہ اور وحشیانہ سلسلے سے پوری دنیا میں ہندوستان کی بدنامی ہورہی ہے ۔انسانی حقوق کی کئی عالمی تنظیموں نے موب لنچنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اسے روکنے کا مطالبہ کیا ہے‘ لیکن اب تک اس پر کوئی روک نہیں لگی ہے اور لنچنگ کی وارداتیں دن بہ دن بڑھتی چلی جارہی ہیں ۔سپریم کورٹ کی طرف سے صوبائی حکومتوں کو جاری کی گئی واضح ہدایات اور ان وارداتوں کو روکنے کے لئے نوڈل افسروں کے تقرر کے باوجود یہ سلسلہ ہنوز برقر ار ہے۔
مو ب لنچنگ یا ہجومی تشد د کے تعلق سے عام تاثر یہ ہے کہ اس ظالمانہ اور وحشیانہ سلسلے کو حکمراں طبقے کی حمایت حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہجومی تشدد کے مجرموں کو عبرتناک سزائیں دلوانے کی بجائے انہیں قانونی تحفظ اور عوامی پذیر ائی حاصل ہوتی رہی ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ آرایس ایس چیف نے لنچنگ سے عالمی پیمانے پر ہورہی ہندوستان کی بدنامی پر تو تشویش کا اظہار کیا ہے‘ لیکن انہوں نے لنچنگ کو روکنے یا اس کی مذمت میں ایک لفظ بھی کہنے سے گریزکیا ہے بلکہ حسب عادت اس معاملے کو گھمانے اور لوگوں کو لنچنگ کے معنی اور مفہوم میں الجھانے کی ناکام کوشش کی ہے۔موہن بھاگوت نے’ لنچنگ‘ کو مغربی اصطلاح قرار دیتے ہوئے مسترد تو کردیا لیکن اس کا شکار ہونے والے سینکڑوں بے گناہوں کے تعلق سے زبان کھولنا گوار ا نہیں کیا ۔انہوں نے عیسائی مذہب سے وابستہ ایک واقعہ کی بنیاد پر لنچنگ کا سارا ملبہ مغرب کے منہ پر ڈال دیا ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اس بیان کی عیسائی تنظیموں نے بھی شدید مذمت کی ہے جس پر ہم آگے چل کر روشنی ڈالیں گے۔آئیے پہلے موہن بھاگوت کی تقریر کا رخ کرتے ہیں‘ جو انہوں نے ناگپور میں دسہرے کے موقع پر کی ہے اور جس کی سرکاری سطح پر بڑے پیمانے پر تشہیر بھی کی گئی ہے ۔
ناگپور میں وجے دشمی کے موقع پر منعقدہ سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ’’ لنچنگ ہندوستانی روایت کا حصہ نہیں ہے۔لنچنگ جیسے لفظ کی آڑ میں ہندوستان اور ہندو سماج کو بدنام کرنے کی سازش رچی جارہی ہے اور اقلیتوں کو خوف زدہ کیا جارہا ہے۔‘‘آرایس ایس کے یوم تاسیس کے موقع پر اپنے خطاب میں بھاگوت نے کہا کہ’’ ایک فرقہ کے فرد کی طرف سے دوسرے فرقے کے فرد کو ہجومی تشدد کا شکار بنانے یا مارنے کی خبریں آئی ہیں۔ایسے واقعات یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں طرف سے ہوتے ہیں ۔کچھ واقعات جان بوجھ کر کروائے گئے ہیں اور کچھ رپورٹیں تفصیلی طور پر شائع کی گئی ہیں ۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’لنچنگ کا لفظ کہاں سے آیا ؟ایک فرقے کی مذہبی کتاب میں ذکر ہے کہ ایک عورت کو جب سب لوگ پتھر مارنے لگے تو عیسیٰ مسیح نے کہا کہ پہلا پتھر وہ مارے جو گناہ گار نہ ہو ۔ہمارے یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا ۔دوسرے ملک کی روایات کے لفظ کو ہندوستان پر تھوپنے کی کوشش ہورہی ہے۔‘‘
موہن بھاگوت نے اپنی تقریر میں عیسائیوں کی مذہبی کتاب بائبل کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے‘ اس کی تردید خود عیسائی مذہب کے قائدین نے کی ہے۔ہندوستان میں کلیسائوں کی سب سے بڑی تنظیم این سی سی آئی نے اپنی میٹنگ میں موہن بھاگوت کے بیان کے خلاف باقاعدہ مذمتی قرار داد منظور کرکے کہا کہ ’’موہن بھاگوت نے گذشتہ دنوں اپنی تقریر کے دوران ہجومی تشدد کو غیر ملکی ٹھہرانے کے لئے جس طرح بائبل کا غلط حوالہ دیا ہے‘ اس سے عیسائیوں کو تکلیف پہنچی ہے۔‘‘بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’بھاگوت نے جس واقعہ کا حوالہ دیا ہے‘ اس میں خود عیسیٰ مسیح ہجومی تشدد سے ایک خاتون کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن موہن بھاگوت نے اسے اپنے مفاد کے لئے توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے ۔‘‘قرارداد میں بھاگوت کے بیان کو دو فرقوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے والا اور ایک تاریخی واقعہ کو غلط حوالہ دے کر ہجومی تشدد کو درست ٹھہرانے کی کوشش قراردیا گیا ہے جسے کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپنے بیان میں موہن بھاگوت نے لنچنگ کو دو طرفہ عمل قرار دینے کی عجیب وغریب منطق پیش کی ہے۔ان کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دونوں فرقے یعنی ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کی لنچنگ کررہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب تک ہجومی تشدد یا موب لنچنگ کی جتنی بھی وارداتیں ہوئی ہیں‘ ان سب کا شکار مسلمان ہوئے ہیں اور تقریباً ہر واردات میں گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کو درندگی اور بربریت کے ساتھ ہلاک کیا گیا ہے ۔ایسا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا جس میں مسلمانوں نے کسی غیر مسلم کو ہجومی تشدد میں ہلاک کیا ہو یا اس کی لنچنگ کی ہو ۔یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ موہن بھاگوت لنچنگ میں ملوث مجرموں کو عبرتناک سزائیں دلوانے کا مطالبہ کرنے کی بجائے ملک کے عوام کو ایک ایسی بحث میں الجھانا چاہتے ہیں جس میں الجھ کر لوگ اصل مسئلے سے غافل ہوجائیں ۔بھاگوت کو اس بات کی تو فکر ہے کہ لنچنگ جیسے لفظ کی آڑ میں ہندوستان اور ہندو سماج کو بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے لیکن انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ اس ظالمانہ اور وحشیا نہ  عمل میں اقلیتی فرقے کے بے گناہ اور نہتے لوگوں کی جانیں لی جارہی ہیں۔
ظاہر ہے کہ ان وارداتوں میں نام نہاد گئو رکشک ہی شامل ہیں جنہیں سنگھ پریوار کا ’آشیرواد ‘حاصل ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ موہن بھاگوت لنچنگ کا شکار ہونے والے بے گناہوں کو خراج عقیدت پیش کرتے اور مجرموں کو سزائیں دلانے کا مطالبہ کرتے۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے اس پورے معاملے کو الفاظ اور معانی میں الجھانے کی ناکام کوشش کی ہے جس پر چاروں طرف سے رد عمل ہورہا ہے ۔کانگریسی لیڈر ششی تھرور نے موہن بھاگوت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جرم ‘جرم ہوتا ہے اور اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ اصطلاح ہندوستانی ثقافت سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ’’ لفظ لنچنگ مغرب سے آیا ہے تو کیا اس کامطلب یہ ہے کہ لوگوں پر کسی مقدمے کے بغیر ہجوم کا تشدد جائز ہے۔آپ اس کو کسی بھی ہندوستانی سنسکرت لفظ کے ذریعہ بیان کرسکتے ہیں لیکن یہ انتہائی خوف ناک جرم ہے۔‘‘بھاگوت کے بیان کی بیرسٹر اسدالدین اویسی نے بھی گرفت کی ہے ۔انہوں نے بھاگوت سے پوچھا ہے کہ’’ ہجومی تشدد کے ملزمان کوپھول مالائیں کس نے پہنائیں اور انہیں قومی پرچم میں کس نے لپیٹا ۔‘‘انہوں نے کہا کہ’’ بھاگوت یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ لنچنگ کو روکو بلکہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اسے لنچنگ نہ کہو ۔‘‘
بیرسٹر اویسی کا اشارہ دراصل جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں گذشتہ سال ہجومی تشدد کے ملزمان کو ایک مرکزی وزیر کی طرف سے پھول مالائیں پہنانے سے تھا اور اسی طرح ہجومی تشدد کے ایک ملزم کی جیل میں موت ہوجانے کے بعد اسے جس طرح قومی پرچم میں لپیٹ کر آخری رسومات ادا کی گئیں ‘وہ بھی انتہائی تشویشناک بات تھی۔ ظاہر ہے جب حکومت کے کارندے ہجومی تشدد کے ملزمان کی اس حد تک پذیر ائی کریں گے تو ملک میں لنچنگ کا شرمناک سلسلہ کیسے رکے گا ۔موہن بھاگوت کو اگر ہندوستانی کی بدنامی اور ہندوئوں کی رسوائی کا اتنا ہی خوف ہے تو انہیں خود ساختہ ہندو راشٹر میں جس کا تذکرہ انہوں نے اپنی دسہرہ تقریر میں بڑے زور وشور سے کیا ہے ‘ایسا ماحول ضرور پیدا کرنا چاہئے جہاں انسانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک نہ ہو اور کمزور ‘لاچار بے بس اور نہتے لوگوں کو تنہائی میں گھیر کر تشدد کا نشانہ‘ نہ بنایا جائے ۔اگر موہن بھاگوت ہندوستان کو ہندو راشٹر کہتے ہیں تو انہیں اپنے پیروکاروں کو یہ ضرور سکھانا چاہئے کہ کسی نہتے بے قصور اور کمزور انسان پر حملہ کرنا بہادری نہیں بلکہ آخری درجے کی بزدلی ہے جو خیالی ہندو راشٹر کے مکینوں کو زیب نہیں دیتی ۔اگر موہن بھاگوت خیالی ہند راشٹر میں کمزوروں پر ظلم کو ہی بہادری تصور کرتے ہیں تو انہیں ایسا ہندو راشٹر مبارک ہو۔