ترنمول کانگریس کے اقتدار والی ریاست مغربی بنگال آج کل سنگھ پریوار کی ریشہ دوانیوں کا سب سے بڑا مرکز بنی ہوئی ہے۔کسی زمانے میں بائیں بازو کا مضبوط قلعہ سمجھی جانے والی یہ ریاست آہستہ آہستہ بی جے پی کا گڑھ بنتی چلی جارہی ہے۔گذشتہ عام انتخابات میں ریاست کی 42میں سے 18سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والی بی جے پی کی نظریں اب صوبائی اقتدار پر ہیں اور وہ ممتا بنرجی کو بے دخل کرکے وہاں اپنا پرچم لہرانا چاہتی ہے۔اسی مغربی بنگال کی راجدھانی کولکتہ میں گذشتہ ہفتہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی کی حدیں پار کرتا ہوا ایک ایسا بیان دیا ہے جس کی باز گشت پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔انہوں نے این آرسی کے مسئلے پر غیر مسلم باشندوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں ہندوستان چھوڑنے پر کوئی مجبور نہیں کرسکتا ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے جن غیر قانونی شہریوں کو در بدر نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے‘ ان میں مسلمانوں کے علاوہ ملک کے تمام فرقے شامل ہیں ۔امت شاہ نے این آرسی کے مسئلے پر کہا ہے کہ ’’ہم آج ہندو ‘سکھ ‘جین ‘بودھ ‘عیسائی اور پارسی پناہ گزینوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ آپ کو مرکزی حکومت ہندوستان چھوڑنے پر مجبور نہیں کرے گی ۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’این آرسی سے پہلے ہم شہریت ترمیمی بل لائیں گے جو ان کی ہندوستانی شہریت کو یقینی بنائے گا ۔ مگرہم ایک بھی گھس پیٹھئے کو یہاں نہیں رہنے دیں گے ۔‘‘
وزیر داخلہ امت شاہ کے اس انتہائی قابل اعتراض اور غیر آئینی بیان پر اس وقت پورے ملک میں زبردست بحث ومباحثہ چل رہا ہے چونکہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیر داخلہ نے کھلے طور پر اپنی فرقہ وارانہ اور مسلم مخالف سوچ کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے اپنے بیان میں پڑوسی ملکوں سے نقل مکانی کرنے والے غیر مسلموں کو تو ہندوستانی شہریت فراہم کرنے کی بات کہی ہے لیکن مسلمانوں کو’ گھس پیٹھیا‘ قرار دے کر انہیں ملک بدر کرنے کی وارننگ دی ہے ۔حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ امت شاہ نے اس قسم کا بیان پہلی بار دیا ہے بلکہ اس سے قبل وہ انتخابی جلسوں میں غیر ملکی باشندوں کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں لیکن وزیر داخلہ کے طور پر انہوں نے پہلی مرتبہ ایسی فرقہ وارانہ اور غیر آئینی زبان استعمال کی ہے ۔عام انتخابات کی مہم کے دوران یہ تصور کیا جارہا تھا کہ اس قسم کی بیان بازی محض اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لئے کی جارہی ہے اور الیکشن ختم ہونے کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔لیکن یہ خیال غلط ثابت ہوا اور امت شاہ وزیر داخلہ کی کرسی پر براجمان ہونے کے بعد بھی وہی زبان بول رہے ہیں جو بی جے پی صدر کے طور پر بولتے تھے ۔یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ کے کاندھوں پر داخلی سلامتی کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وزیر داخلہ کا بنیادی کام ملک کے باشندوں کے اندر تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہوتا ہے ۔لیکن یہ کیسا وزیر داخلہ ہے جو ملک کے باشندوں میں خوف وہراس ‘بے چینی اور اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔واضح رہے کہ امت شاہ نے کلکتہ میں یہ بیان اس لئے دیا ہے کہ آسام کے بعد اب مغربی بنگال میں بھی این آر سی نافذ کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔مغربی بنگال میں ان باتوں کا اتنا خطرناک اثر ہوا ہے کہ وہاں کئی لوگ خوف اور دہشت سے موت کے منہ میں چلے گئے ہیں ۔شہریت ثابت کرنے کے لئے ضروری کاغذات دستیاب نہ ہونے سے مایوس دو لوگوں نے گذشتہ ہفتے خود کشی بھی کر لی ہے ۔ریاستی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خودکشی کرنے والے اپنی شہریت ثابت نہ کر پانے سے خوف زدہ اور پریشان تھے ۔این آرسی کے خوف سے مغربی بنگال میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے ۔ مغربی بنگال میںکلکتہ میونسپل کارپوریشن اور دیگر اضلاع کے میونسپلٹی اور پنچایت دفتروں کے باہر اپنے شہری دستاویزات درست کرانے والوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔
ہم آپ کو یاد دلادیں کہ امت شاہ سے قبل اس قسم کا بیان آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے بھی دیا تھا ۔انگریزی روز نامہ ’ٹیلی گراف ‘ کی ایک خبر کے مطابق گذشتہ دنوں ہاوڑہ کے الو بیریا حلقہ میں منعقدہ آرایس ایس کی ذیلی تنظیموں کی ایک میٹنگ کے دوران بھاگوت نے کہا تھا کہ’’ جن ہندؤوں کے نام آسام این آرسی یا دیگر این آرسی میں نہیں آپا ئے ہیں‘ انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘انہوں نے کہا تھا کہ’’ خبریں مل رہی ہیں کہ آسام این آر سی میں جن 19لاکھ شہریوں کے نام شامل نہیں ہو پائے ہیں‘ ان میں سے 12لاکھ ہندو ہیں ۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ایک بھی ہندو کو این آرسی کی وجہ سے ملک چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ آرایس ایس ہندوئوں کے ساتھ ہے ۔اس ملک میں کہیں بھی رہنے والے ہندوئوں کو این آرسی سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘واضح رہے کہ آسام میں غیر ملکی باشندوں کی شناخت کے لئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں جو مہم چلائی گئی تھی اس کا نتیجہ بی جے پی کے خلاف برآمد ہوا ہے۔این آرسی کی حتمی فہرست میں جن 19لاکھ باشندوں کو غیر ملکی قرار دیا گیا ہے‘ ان میں اکثریت ہندوئوں کی ہے۔امید کی جارہی تھی کہ آسام کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے بی جے پی آئندہ این آرسی سے توبہ کرلے گی لیکن آسام میں منہ کی کھانے کے باوجود بی جے پی نے این آرسی کا رخ مغربی بنگال کی طرف موڑ دیا ہے ۔ظاہر ہے وہ اس مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر ملک کے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔مغربی بنگال کے علاوہ اترپردیش میں بھی یوگی سرکار نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے پولیس سربراہ کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ جھگی جھونپڑی بستیوں میں بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کو تلاش کرے۔یوپی پولیس نے پورے تام جھام کے ساتھ مسلم علاقوں میں ’بنگلہ دیشیوں‘ کو تلاش کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی تلاش کاکام ان ہی ریاستوں میں شروع کیا گیا ہے‘ جہاں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے ۔آسام کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ وہاں کشمیر کے بعد سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور مجموعی آبادی میں ان کی 34فیصد حصہ داریہے۔اس کے بعد مغربی بنگال میں 28فیصد مسلم آبادی ہے اور اسی طرح ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں تقریباً 20فیصد مسلمان آباد ہیں۔ظاہر ہے اس شر انگیز مہم کا واحد مقصد مسلمانوں میں خوف وہراس پیدا کرنا اور انہیں دیوار سے لگانا ہے ۔اس ملک میں جمہوریت ‘دستور اور سیکولرازم کی اس سے بڑھ کر توہین اور کیا ہوسکتی ہے کہ دستور کی پاسداری کا حلف اٹھا کر کھلے عام دستور کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ۔یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ اس ملک کا دستور کسی بھی شہری کے ساتھ رنگ ونسل اور مذہب و ذات پات کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرتا اور سب کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے کی تلقین کرتا ہے ۔دستور کی اس واضح ہدایت کے باوجود ملک کا وزیر داخلہ یہ کہتے ہوئے اس کی روح کو پامال کرتا ہے کہ’’ ہم آج ہندو ‘سکھ‘جین ‘بودھ ‘عیسائی اور پارسی پناہ گزینوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ آپ کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور نہیں کریں گے ۔‘‘اس فہرست میں مسلم پناہ گزینوں کا نام جان بوجھ کر شامل نہیں کیا گیا ہے چونکہ انہیں ملک بدر کرنے کے لئے حکومت شہریت ترمیمی بل دوبارہ لانے کی تیاری کررہی ہے۔اس بل کے ذریعہ مودی سرکار پاکستان ‘بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان آنے والے غیر مسلموں کو شہریت عطا کرے گی اور ان سے کوئی دستاویز ات بھی طلب نہیں کئے جائیں گے جبکہ مسلم پناہ گزینوں کے پاس ضروری دستاویزات ہونے کے باوجود ان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ مودی سرکار نے اپنے پچھلے دور اقتدار میں 8جنوری 2019کو شہریت ترمیمی بل لوک سبھا سے پاس کرایا تھا لیکن راجیہ سبھا میں پیش نہیں کئے جانے کے سبب یہ بل دم توڑ گیا۔یہ بل 31دسمبر 2014یا اس سے قبل ہندوستان میں داخل ہونے والے ہندو ‘سکھ ‘بودھ‘جین ‘عیسائی اور پارسی پناہ گزینوں کو شہریت دینے سے متعلق ہے ۔ اب جبکہ بی جے پی دوبارہ زیادہ بڑی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے تو اس قانون کو پوری شدت کے ساتھ پاس کرانے کی کوشش کرے گی ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ کی طرف سے کلکتہ میں دیئے گئے بیان کی مخالفت سب سے پہلے شمال مشرقی ریاستوں سے شروع ہوئی ہے‘ جہاں شہریت ترمیمی بل کے خلاف محاذ کھول دیا گیاہے۔اس بل کے خلاف منی پور اور ناگالینڈ میں زبردست مظاہرے شروع ہوگئے ہیں ۔منی پور میں احتجاج کے دوران طلبا کی 6بڑی تنظیموں نے مارچ نکالا ہے جس میں ہزاروں طلبا نے انسانی زنجیر بنا کر شہریت ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کیا ہے ۔اسی قسم کا احتجاج کوہیما کے ہزاروں باشندوں نے بھی کیا ہے ۔مختلف ناگا قبائلیوں نے صوبائی وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم سونپ کر شہریت ترمیمی بل کو شمال مشرق کے قبائلیوں کے لئے سم قاتل قرار دیا ہے ۔غرض یہ کہ بی جے پی نے این آرسی کا پٹارہ کھول کر ملک میں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا شکار نہ ہو ں اور تمام احتیاطی اقدامات اختیار کریں۔