آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے پہلی بار ہجومی تشدد کے خلاف زبان کھولی ہے۔غیر ملکی صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم ہر قسم کے تشدد کی مخالف ہے اور ان کے رضا کار موب لنچنگ کو روکنے کے لئے کام کریں گے ۔موہن بھاگوت کا یہ بیان اس اعتبارسے خاصی اہمیت کا حامل ہے کہ اب تک ملک میں ہجومی تشدد کی جتنی بھی وارداتیں ہوئی ہیں‘ ان کا الزام سنگھ پریوار پر ہی عائد کیا گیا ہے ۔بیشتر معاملات میں سنگھ پریوار کی ذیلی تنظیموں کے کارکن ہی ملوث پائے گئے ہیں۔گئو رکشا کے نام پر شروع کی گئی اس خونی مہم میں اب تک درجنوں مسلمانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر ان کی جانیں لی گئی ہیں۔یہ سلسلہ کسی بھی صورت رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔آئے دن ملک کے مختلف مقامات پر ہجومی تشدد کی وارداتیں ہوتی ہیں ‘ لیکن پولیس اور انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔حالانکہ اس معاملے میں سپریم کورٹ بھی رہنما ہدایات جاری کرچکا ہے اور اسی کے حکم پر موب لنچنگ کو روکنے کے لئے ہر صوبے میں نوڈل افسر مقرر کئے گئے ہیں لیکن یہ سلسلہ تھم نہیں رہا ہے‘ البتہ اس کی شکل کسی قدر بدل گئی ہے۔پہلے گئو رکشا کے نام پر بے قصور لوگوں کی جانیں لی جارہی تھیں اور اب چوری کے الزام میں بے قصوروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔غرض یہ کہ سماج کے کمزور اور لاچار لوگوں کے خلاف طاقتور لوگوں کے ظلم وستم اور بربریت کا سلسلہ جاری ہے۔
آرایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے نئی دہلی میں 80سے زیادہ غیر ملکی صحافیوں سے ’آف دی ریکارڈ‘بات چیت کے دوران جو کچھ کہا ہے اس کی اطلاع خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے جس میں موہن بھاگوت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ’’ آرایس ایس ہر قسم کے تشدد کے خلاف ہے اور اگر کوئی آرایس ایس کارکن موب لنچنگ میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کی حمایت نہیں کی جائے گی بلکہ قانون اپنا کام کرے گا ۔‘‘اتنا ہی نہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ آرایس ایس کارکنوں کو موب لنچنگ روکنے کے لئے آگے آنا چاہئے ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ عالمی میڈیا کے نمائندوں سے موہن بھاگوت کی یہ ملاقات عالمی سطح پر آرایس ایس کی بگڑتی ہوئی شبیہ کے تناظرمیں ہوئی تھی اور اس میں اپنی صفائی پیش کرنے کا مقصد پوشیدہ تھا لیکن حیر ت انگیز بات یہ ہے کہ اس میٹنگ کی رپورٹنگ کرنے سے صحافیوں کو باز رہنے کے لئے کہا گیا تھا ۔یہ پہلا موقع ہے کہ آرایس ایس کے سربراہ نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کرکے ان پر اپنا موقف واضح کیا ہے ۔’’آرایس ایس کو جانئے‘‘کے عنوان سے منعقدہ ڈھائی گھنٹہ طویل میٹنگ کے دوران آرایس ایس چیف نے غیر ملکی میڈیا کے سامنے کشمیر ‘ہندو راشٹر ‘ہندو تو ‘موب لنچنگ اور این آر سی جیسے سلگتے ہوئے مسائل پر کھل کر اپنا نظریہ پیش کیا ۔امریکہ‘ جرمنی ‘برطانیہ‘جاپان ‘اسٹریلیا‘چین ‘اٹلی اور نیپال سمیت تیس ملکوں کے 80صحافیوں نے آرایس ایس چیف سے تین درجن سوال پوچھے ۔اس میٹنگ کے دوران بھاگوت نے ہندوستان کو بنیادی طور پر ہند و راشٹر قرار دیامگر ہجومی تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ’’ آرایس ایس کے سویم سیوکوں کو بھی اسے روکنے میں مدد کرنا چاہئے ۔‘‘ہمیں نہیں معلوم کہ آرایس ایس چیف نے جو باتیں عالمی میڈیا کے نمائندوں سے کہی ہیں ان کا پیغام آرایس ایس کارکنوں کو بھی پہنچا ہے یا نہیں ؟لیکن اتنا ضرور ہے کہ تاخیر سے ہی سہی آرایس ایس نے اس انتہائی حساس معاملے میں زبان تو کھولی ہے‘ ورنہ عام طور پر ایسے معاملات میں آرایس ایس کی خاموشی ہی اس کی زباں سمجھی جاتی ہے۔
یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ مرکز میں بی جے پی کی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد ہجومی تشدد کی وارداتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ان وارداتوں میں سب سے زیادہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور گئو کشی کے الزام میں انہیں نہایت بے دردی کے ساتھ پیٹ پیٹ کر ہلاک کیا گیا ہے ۔گائے کے تحفظ کے نام پر سرگرم سنگھ پریوار کے مختلف گروپوں نے کہیں گئو کشی اور کہیں گایوں کی اسمگلنگ کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔یہاں تک کے ڈیری کاکام کرنے والے مسلم کسانوں کو دودھ دینے والے مویشیوں کی خرید وفروخت یا نقل وحمل کے دوران انہیں گایوں کا اسمگلرقرار دے کربدترین تشدد کا شکار بنایا گیا ہے ۔ان میں راجستھان کے الور ضلع میں پہلو خان اور اکبر خان جیسے ڈیری تاجروں کی ہلاکت کے واقعات بھی شامل ہیں ۔اس معاملے میں اپوزیشن پارٹیاں آرایس ایس سمیت ہندو تنظیموں کے کارکنوں کو مورد الزام ٹھہراتی رہی ہیں۔بیشتر واقعات میں ان الزامات کی تصدیق بھی ہوئی ہے ۔اس قسم کی سنگین وارداتوں کو روکنے میں ناکامی کے لئے بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں کو خاص طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور اس معاملے میں پولیس اور صوبائی حکومتوں کی سرد مہری نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے ۔پہلو خان کے قاتلوں کو باعزت بری کرنے سے لے کر تبریز انصاری کے قاتلوں پر سے قتل کی دفعات ہٹانے کے واقعات اس کے گواہ ہیں۔ان سب باتوں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ ہجومی تشدد میں شامل لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتائو کررہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہجومی تشدد کے بیشتر مقدمات میں ملزمان یا تو بری کردئے گئے ہیں یا پھر انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے ۔یہاں تک کہ اترپردیش کے بلند شہر ضلع میں گئو کشی کے عنوان سے شرپسندوں نے جو طوفان برپا کیا تھا اور جس کی زد میں ایک پولیس انسپکٹر سبودھ کمار کی موت واقع ہوگئی تھی‘ اس کے ملزمان بھی حال ہی میں ضمانت پر رہا کردئے گئے ہیں ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ بی جے پی اور آرایس ایس نے ہمیشہ اس قسم کے الزامات کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کے نظم ونسق صوبائی حکومتوں کا موضوع ہے اور اس سلسلے میں بی جے پی سرکاروں نے مناسب کارروائی بھی کی ہے۔وزیر اعظم نریندمودی بھی موب لنچنگ کی وارداتوں کی مذمت کرچکے ہیں اور انہوں نے اس معاملے میں صوبائی حکومتوں سے سخت اقدامات کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔لیکن حیر ت انگیز بات یہ ہے کہ اب تک اس وحشت وبربریت کا سلسلہ قائم ہے اور ملک میں ہندوتو وادی عناصر جہاں کہیں کسی کمزور اور لاچار مسلمان کو پاتے ہیں تو اسے کسی بھی عنوان سے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہجومی تشدد کی مذمت سے متعلق آرایس ایس چیف کے بیان کا دارالعلوم دیوبند نے خیر مقدم کیا ہے ۔دارالعلوم کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھاگوت کو موب لنچنگ کی مذمت کرنے کے ساتھ بھی اس کے خلاف قانون بنانے کا بھی مطالبہ کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ’’ اس طرح کے واقعات کی مذمت کرنا یا ان کی حمایت نہ کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ موب لنچنگ کے واقعات کو روکنے کے لئے موثر قانون کی ضرورت ہے ۔‘‘
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہجومی تشدد کی وارداتوں کا سلسلہ جتنا وسیع ہوگیا ہے اور اس میں جس تعداد میں لوگوں کی جانیں لی گئی ہیں‘ اس کے پیش نظر حکومت کو ایک ایسا سخت قانون بنانا چاہئے جس سے اس پر روک لگ سکے۔کئی غیر بی جے پی ریاستوں نے اس معاملے میں پہل کرتے ہوئے موب لنچنگ مخالف قانون وضع کئے ہیں۔ لیکن اس معاملے میں بی جے پی کے اقتدار والی ریاستیں بہت پیچھے ہیں اور وہ محض زبانی جمع خرچ سے کام چلا رہی ہیں۔مرکز میں برسراقتدار مودی سرکار نے بھی اس راہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے ۔اگر واقعی آرایس ایس موب لنچنگ کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے اور اس معاملے میں ہونے والی اپنی یا اپنی حکومت کی بد نامی سے بچنا چاہتی ہیں تو اسے فوری طور پر مرکزی حکومت سے ایک موثر قانون بنانے کا مطالبہ کرنا چاہئے ۔جس طرح مودی سرکار نے طلاق شدہ مسلم خواتین سے غیر معمولی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین طلاق کے خلاف سخت قانون بنایا ہے‘ اسی طرح اسے مسلم نوجوانوں کو ہجومی تشدد سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک سخت قانون بنانا چاہئے ۔ظاہر ہے مسلم نوجوانوں کی ہلاکت کے نتیجے میں بیوہ ہونے والی مسلم خواتین اور یتیم بچے بھی حکومت کی توجہ کے اتنے ہی مستحق ہیں جتنا کہ طلاق شدہ مسلم خواتین ۔امید ہے کہ حکومت اس جانب فوری متوجہ ہوگی۔