Jadid Khabar

امریکہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائلیں فروخت کرنے کی دی منظوری، قیمت 20 ہزار کروڑ

Thumb

امریکہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ پی اے سی-3 میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے جمعہ کے روز بتایا کہ اس سودے کی مالیت تقریباً 2.1 ارب ڈالر (تقریباً 19133 کروڑ روپے) ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں یوکرین کو دفاعی مقاصد کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کی سمت میں اسے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ منظوری ملنے کے باوجود یوکرین کو یہ میزائل جلد نہیں ملیں گی۔ ہتھیاروں کی فروخت کے بعد ان کی سپلائی میں عام طور پر کئی برس لگ جاتے ہیں۔ امریکی فیصلے سے واقف 2 افراد کے مطابق ان میزائلوں کی تیاری فی الحال شروع نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے یوکرین کو سپلائی 2030 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ہی ممکن ہو سکے گی۔

میزائلوں کی سپلائی میں تاخیر کی وجہ سے امریکہ اور یوکرین کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ زیلنسکی نے پیر کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک تقریباً ایک ماہ سے امریکی منظوری کا انتظار کر رہا ہے۔ روس نے یوکرین کے توانائی مراکز اور عوامی مقامات پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ ایسے میں یوکرین کو ان میزائلوں کی ضرورت ہے۔ دریں اثنا ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل ڈیل کی اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین روس کی تیل ریفائنریوں پر حملہ روکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ امریکی فیصلے سے واقف ایک شخص کے مطابق یوکرین کی وزارت دفاع پینٹاگون سے میزائلوں کی جلد فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ امریکہ اپنے موجودہ ذخیرے سے یوکرین کو میزائل فراہم کر سکتا ہے اور بعد میں نئی میزائلیں تیار کرکے اپنا ذخیرہ دوبارہ پورا کر سکتا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق اس سودے کے لیے کناڈا، جرمنی اور ناروے رقم فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کے یوکرین سپورٹ لون سے حاصل ہونے والی رقم بھی استعمال کی جائے گی۔ یہ رقم امریکی جمپ اسٹارٹ پروگرام کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ پینٹاگون کی ویب سائٹ کے مطابق اس پروگرام کے تحت اتحادی ممالک یوکرین کو ہتھیار، فوجی خدمات اور تربیت فراہم کرنے کے لیے رقم دیتے ہیں۔ اگست میں اسی پروگرام کے تحت 82.5 کروڑ ڈالر خرچ کرکے 3350 فضا سے داغے جانے والے کروز میزائل خریدے گئے تھے۔ یہ میزائل زون-5 ٹیکنالوجیز اور کو ایسپائر کمپنیوں نے تیار کیے تھے۔ اس سودے کے تحت پیٹریاٹ میزائلوں کی تیاری کی اہم ذمہ داری امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کی ہے۔
امریکہ نے اپنے اتحادی ممالک کو بڑی تعداد میں ہتھیار فراہم کیے ہیں، اور ایران میں فوجی آپریشنز کے دوران بھی ان ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔ اس سے فضائی حملوں کو روکنے والے میزائلوں اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کی کمی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ جولائی میں امریکی فوج نے لاک ہیڈ مارٹن کو 58.6 ارب ڈالر تک کا ٹھیکہ دیا تھا۔ کمپنی کے مطابق اس معاہدے سے 2030 کے آخر تک پی اے سی-3 ایم ایس ای میزائلوں کی پیداوار 3 گنا کی جا سکے گی۔ آرکنساس کے کیمڈن پلانٹ میں ملازمین کی تعداد 1200 سے بڑھا کر تقریباً 1850 کی جائے گی۔ کمپنی نے سالانہ 2000 پیٹریاٹ پی اے سی-3 میزائل تیار کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔ پینٹاگون حکام ہتھیار تیار کرنے والی کمپنیوں پر پیداوار میں تیزی لانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس سال کے آغاز میں میزائلوں کی تیاری بڑھانے کے لیے ابتدائی معاہدے بھی کیے گئے تھے۔