Jadid Khabar

آئی آر سی ٹی سی معاملہ: رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کو 19 نومبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

Thumb

نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے آئی آر سی ٹی سی ہوٹل گھوٹالے سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ معاملے میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کی اہلیہ رابڑی دیوی اور بیٹے تیجسوی یادو کو جمعہ کے روز عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے سے استثنیٰ دے دیا۔ عدالت نے دونوں کو 19 نومبر کو ہونے والی اگلی سماعت میں ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔

راؤز ایونیو کورٹ میں جمعہ کو معاملے کی سماعت کے دوران رابڑی دیوی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ صحت سے متعلق وجوہات کی بنا پر پیش ہونے سے قاصر ہیں۔ دوسری جانب تیجسوی یادو کے وکیل نے بتایا کہ ان کی پرواز میں تاخیر ہو گئی ہے اور وہ ضروری کارروائی مکمل کرنے کے لیے دوپہر 2 بجے تک عدالت پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم عدالت نے دونوں کو اس دن کے لیے حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے اگلی سماعت کی تاریخ 19 نومبر مقرر کر دی۔
سماعت کے دوران لالو پرساد یادو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دہلی ہائی کورٹ نے ان کی اس درخواست پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو نوٹس جاری کیا ہے، جس میں ٹرائل کورٹ کے ذریعے ان کے خلاف الزامات طے کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
وکیل کے مطابق ہائی کورٹ نے انہیں 3 دسمبر کو ہونے والی اگلی سماعت تک ٹرائل کورٹ سے کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست دینے کی اجازت بھی دی ہے۔ اس پر ٹرائل کورٹ نے واضح کیا کہ جن ملزمین کو ہائی کورٹ سے کارروائی پر روک (اسٹے) حاصل نہیں ہے، انہیں اگلی سماعت پر عدالت میں حاضر ہونا ہوگا۔
واضح رہے کہ رواں سال ستمبر میں راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج وشال گوگنے نے لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، تیجسوی یادو اور دیگر ملزمین کے خلاف الزامات طے کیے تھے۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ ملزمین کے خلاف انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت بادی النظر میں مقدمہ بنتا ہے۔ تاہم عدالت نے اس معاملے میں سات ملزمین کو الزامات سے بری کردیا تھا۔
ای ڈی کے مطابق یہ معاملہ 2004 سے 2009 کے درمیان لالو پرساد یادو کے مرکزی وزیر ریلوے رہنے کے دوران آئی آر سی ٹی سی کے ہوٹلوں کے انتظام اور دیکھ بھال کے ٹھیکے دینے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔
مرکزی تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ ہوٹلوں کی دیکھ بھال کے ٹھیکے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے لالو پرساد یادو کے قریبی ساتھیوں سے منسلک ایک نجی کمپنی کو دیے گئے تھے۔ اس کے عوض لالو خاندان کے افراد اور ان کے ساتھیوں سے منسلک ایک مبینہ بے نامی کمپنی کے ذریعے تین ایکڑ قیمتی زمین حاصل کی گئی۔