Jadid Khabar

اسرائیل: انتخاب میں نیتن یاہو کے دھاندلی کے دعوے کو الیکشن کمیشن نے کیا خارج

Thumb

اسرائیل میں پارلیمانی انتخاب کے بعد سیاسی تنازعہ بڑھ گیا ہے۔ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی پارٹی ’لیکوڈ‘ نے الزام عائد کیا تھا کہ عرب پارٹیوں نے انتخاب میں دھاندلی کر کے سیٹیں چرا لی ہیں۔ اب اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ اسے ان الزامات کے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ پولیس نے جمعرات (29 اکتوبر) کو کہا کہ انتخاب کے روز ووٹنگ کی شفافیت سے متعلق غیر معمولی واقعات بہت کم پیش آئے۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں بھی ایسے واقعات کم تھے۔ الزامات کی تصدیق کرنے والا کوئی بھی بھی تحقیقاتی یا خفیہ ثبوت موجود نہیں ہے۔ اس سے قبل بدھ کو مرکزی الیکشن کمیٹی کے ایک افسر نے بھی انتخاب میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے دعووں کو خارج کیا تھا۔

واضح رہے کہ ’لیکوڈ‘ نے بدھ کو الزام عائد کیا تھا کہ عرب پارٹیوں نے انتخاب میں رشوت، دھمکی، تشدد، جعل سازی اور ووٹرس کو جمع کرنے کے لیے ممنوعہ سافٹ ویئر کا استعمال کیا۔ پارٹی نے اسے اسرائیل کی انتخابی تاریخ میں سنگین بے ضابطگی قرار دیا۔ ’لیکوڈ‘ نے پولیس، اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’شِن بیٹ‘ اور مرکزی الیکشن کمیٹی سے فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ وہ افسران کو سینکڑوں گواہوں اور دیگر ثبوتوں سے متعلق معلومات فراہم کرے گی۔ پارٹی نے کچھ پولنگ مراکز پر ووٹرس کو دھمکانے، ایک سے زیادہ لوگوں کو ووٹنگ بوتھ میں داخل ہونے اور ووٹوں کی گنتی میں گڑبڑی کرنے جیسے الزامات بھی عائد کیے تھے۔
اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی کے چیئرمین نے خفیہ ایجنسی ’شین بیٹ‘کے سربراہ ڈیوڈ زینی کو انتخاب میں غیر ملکی فنڈنگ اور ووٹ خریدنے کے شبہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ خدشہ ہے کہ ’اخوان المسلمین‘ سے وابستہ پیسہ اسرائیل بھیجا گیا، تاکہ عرب برادری کے لوگوں کو زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے جمع کیا جا سکے۔ انتخاب میں غیر ملکی مداخلت سے متعلق معلومات کو انتہائی سنگین قرار دیا گیا ہے۔ ’شین بیٹ‘ کو ایک ہفتہ کے اندر تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہوئے پارلیمانی انتخاب میں عرب جماعتوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر تقریباً 19 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔ اس سے حکومت سازی کے لیے ہونے والی بات چیت میں ان کا کردار اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو کا اتحاد اکثریت سے پیچھے نظر آ رہا ہے اور اپوزیشن کا آئزن کوٹ کی قیادت والا گروپ بھی اپنے دَم پر اکثریت سے دور ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ ’نیسیٹ‘ میں مجموعی طور پر 120 نشستیں ہیں۔ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔