Jadid Khabar

بی جے پی کو ہر معاملے پر سیاست کرنے کے بجائے جمہوریت سے جڑے سنگین سوالات کے جواب دینے چاہئیں: گہلوت

Thumb

جے پور، 26 اکتوبر (یو این آئی) راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق تبصرے کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے مسئلہ بنائے جانے پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کو ہر معاملے پر سیاست کرنے اور عوام کی توجہ بھٹکانے کے بجائے جمہوریت سے جڑے سنگین سوالات کے جواب دینے چاہئیں۔
مسٹر گہلوت نے پیر کو اپنے بیان میں کہا کہ مسٹر کھرگے کے بیان پر بی جے پی جس طرح ہنگامہ کر رہی ہے، اس سے واضح ہے کہ اس کے پاس عوام کے اصل مسائل کا جواب دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کھرگے کا مقصد کسی کی ذاتی توہین کرنا نہیں تھا۔ وہ ہندوستان کے سب سے تجربہ کار سیاست دانوں میں سے ایک ہیں اور وزیر اعظم کے عہدے کے وقار کو سمجھتے ہیں۔ ان کی منشا کبھی بھی اس وقار کے خلاف نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہاکہ '''نانی یاد دلا دینا'، 'باپ کی جاگیر سمجھنا' جیسے رشتوں سے متعلق محاورے اور کہاوتیں ملک میں عام بول چال کا حصہ ہیں اور صدیوں سے رائج ہیں۔ اسی طرح 2025 میں پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 'سالا' کا لفظ استعمال کیا تھا۔ ان الفاظ کا مفہوم ذاتی نہیں بلکہ جذباتی اور مجازی ہوتا ہے۔ کل مسٹر کھرگے نے جو کہا، وہ بھی اسی طرح کی عام بول چال کا انداز ہے، اس لیے بی جے پی کو اس معاملے پر ہنگامہ نہیں کرنا چاہیے۔''
مسٹر گہلوت نے کہا کہ بی جے پی کو آج آداب اور غیر مہذب زبان کی باتیں یاد آ رہی ہیں، لیکن جب 2019 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے سابق وزیر اعظم اور برصغیر میں امن قائم کرنے کی کوششوں کے دوران شہید ہوئے راجیو گاندھی کے لیے غیر مہذب تبصرہ کیا تھا، تب بی جے پی کے رہنماؤں کے آداب کہاں چلے گئے تھے؟
انہوں نے کہا کہ جب اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کی عوامی ریلی کے بعد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور بی جے پی سے وابستہ لوگوں نے اسٹیج کی تطہیر کی تھی، تب یہ سنگین سوال اٹھا تھا کہ آخر بی جے پی اور آر ایس ایس کی سوچ میں دلتوں کے تئیں اتنی نفرت کیوں ہے۔ کانگریس نے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا تھا۔ اس وقت بی جے پی کے سابق قومی صدر جے پی نڈا نے معاملے کی جانچ کرانے کی بات کہی تھی۔ آج سوال یہ ہے کہ اس جانچ کا کیا ہوا؟ جانچ کے نتائج عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھے گئے؟ اس سے بی جے پی کے قول و فعل کا فرق واضح ہوتا ہے۔
مسٹر گہلوت نے کہا کہ آج ملک کے سامنے سب سے بڑا سوال ووٹ چوری کے الزامات اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری کا ہے۔ کانگریس، نوجوان نسل اور پوری اپوزیشن طویل عرصے سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے رول پر سوال اٹھا رہی ہے، لیکن ان سوالات پر مسٹر شاہ نے کبھی ایسی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ جب اپوزیشن اور نوجوان اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو بی جے پی جواب دینے کے بجائے انہیں غیر ملکی طاقتوں سے جوڑنے اور ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے لگتی ہے۔