Jadid Khabar

سال 2029 تک دریائے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف: شاہ

Thumb

نئی دہلی، 22 اکتوبر (یو این آئی) مرکزی وزیرِ داخلہ اور امدادِ باہمی امت شاہ نے جمعرات کو کہا کہ مرکزی حکومت اور دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے دریائے یمنا کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے وقت مقررہ کے مطابق ایک لائحۂ عمل تیار کیا ہے، جس کے تحت سال 2029 تک جمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

مسٹر شاہ نے یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں یمنا کی صفائی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں 40 فیصد سے زیادہ کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمنا میں آلودگی کی بڑی وجوہات میں سیور کا گندا پانی اور ڈیری فارموں سے نکلنے والا گوبر شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابقہ حکومتوں نے تقریباً 30 برس تک اس مسئلے کو نظرانداز کیا اور روزانہ تقریباً 2,000 ٹن گوبر یمنا میں پہنچتا رہا۔

یمنا کی صفائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود سابقہ حکومتوں نے اس سمت میں خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ اب حکومت یمنوتری سے لے کر سنگم تک یمنا کو صاف کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے دھرنے اور احتجاج کرنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینے کی اپیل کی اور کہا کہ سیاسی کامیابی کے لیے ٹھوس نتائج پیش کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آج شروع کیے گئے منصوبوں میں 10 اسکیموں کا افتتاح اور 33 اسکیموں کا آغاز شامل ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے گندے پانی کو صاف کرنے کی صلاحیت میں اضافہ، نئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) کی تنصیب، پرانے پلانٹس کی جدید کاری، گھروں کو سیور لائنوں سے جوڑنے، سیور نظام کی بحالی اور نکاسیٔ آب کے انتظام میں بہتری لائی جائے گی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف کرنے کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت دہلی کو ایسا شہر بنانا چاہتی ہے جہاں پینے کا صاف پانی دستیاب ہو، گلیاں صاف ستھری رہیں، کوڑے کے پہاڑ ختم ہوں اور جمنا صاف ہو کر آگے پریاگ راج کے سنگم تک پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی حکومت نے مرکز کے تعاون سے 2.17 کروڑ ٹن کچرے کو ٹھکانے لگایا ہے اور 100 ایکڑ زمین کو کچرے سے پاک کیا ہے۔ اوکھلا اور بھلسوا میں کچرے کے پہاڑوں کی اونچائی 30 سے 40 میٹر تک کم ہوئی ہے، جبکہ غازی پور میں یہ اونچائی 10 سے 15 میٹر تک گھٹی ہے۔ آئندہ دو برسوں میں ان مقامات پر سرسبز علاقے اور باغات تیار کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دہلی کے ہر گھر کو سیور کنکشن فراہم کرنے اور صاف پینے کا پانی پہنچانے کے لیے تین سالہ منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

مسٹر شاہ نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ بعض سیاسی جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹر لسٹ اور ووٹ چوری کے معاملات اٹھا کر عوامی فیصلے پر سوال کھڑے کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی سہولت کے مطابق الیکشن کمیشن اور عدلیہ کے فیصلوں پر ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ جب اپوزیشن انتخاب جیتتی ہے تو اسے انتخابی عمل درست لگتا ہے، لیکن ہارنے پر اسی عمل کو سوالات کے گھیرے میں لے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹ چوری کا معاملہ اٹھا کر اپوزیشن دراندازوں کے ووٹ بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ عوام اپوزیشن کی اس سیاست کو سمجھ چکے ہیں اور منفی سیاست سے اسے کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔