Jadid Khabar

نشے کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی سکیورٹی پر جواب دیں بھگونت مان: راہل گاندھی

Thumb

نئی دہلی، 15 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پنجاب میں نشے کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے جواب مانگا ہے۔

مسٹر گاندھی نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا 'ایکس' پر کہا کہ پنجاب میں نشے کے خلاف آواز اٹھانا اب جان لیوا ہو گیا ہے اور یہ سب اس عام آدمی پارٹی (عآپ) حکومت کے اقتدار میں ہو رہا ہے جو معاشرے کو بدلنے کی بات کرتے تھے۔ انہوں نے مانسا میں 'نشہ روکو، روزگار دو' مہم چلانے والے پرویندر سنگھ جھوٹا کو دن دہاڑے گولی مارے جانے کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ واقعہ فیس بک لائیو پر بھی دکھائی دیا تھا۔

مسٹر گاندھی نے سنگرور میں مزدور گلزار سنگھ کے معاملے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے وزیر کے سامنے گاؤں میں نشے کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ ان کے خاندان کا الزام ہے کہ اس کے بعد ان پر معافی مانگنے کا دباؤ ڈالا گیا اور انہوں نے اپنی جان دے دی۔ سنگرور میں ہی نشے کے خلاف آواز اٹھانے والے موہنجیت سنگھ کے معاملے میں حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے الزامات کا بھی انہوں نے ذکر کیا اور کہا کہ یہ معاملہ اب ہائی کورٹ میں ہے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ پرویندر سنگھ جھوٹا نے شکایت کی تو ایف آئی آر درج ہوئی لیکن بعد میں پولیس نے انہیں بھی ملزم بنا دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جس حکومت میں شکایت کرنے والا ہی ملزم بن جائے، وہاں نشے کے سوداگر بے خوف کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان سے پوچھا کہ نشے کے خلاف لڑنے والوں کی تحفظ کون کرے گا۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ پنجاب کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرنے والے نشے کی سلطنت کو ختم کیے بغیر کانگریس چین سے نہیں بیٹھے گی۔