Jadid Khabar

آذربائیجان میں حجاب پہننے والی طالبات اور خاتون ٹیچر کو کلاس روم سے باہر نکالا جا رہا، احتجاجی مظاہرے شروع

Thumb

96 فیصد مسلم آبادی والے ملک آذربائیجان کی حکومت نے اسکولوں میں حجاب پہننے پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ حجاب پہن کر آنے والی طالبات کو کلاس روم سے باہر نکالا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف طالبات نے احتجاجی مظاہرے بھی شروع کر دیے ہیں۔ اس معاملے پر حکومت کی اپنی دلیل ہے۔ سرکاری حکم کے مطابق براہ راست حجاب پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے، لیکن ایسے لباس پہننے پر پابندی عائد کی گئی ہے جو اسکول کی سیکولر شناخت کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حجاب پہن کر آنے والی طالبات اور خاتون ٹیچر کو کلاس روم میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔

ایک طرف اس معاملہ نے آذربائیجان میں احتجاج اور مظاہروں کا دور شروع کر دیا ہے، دوسری طرف ترکی کی مداخلت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہو گئی ہے۔ ترکی نے آذربائیجان کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ اس پر آذربائیجان کی حکومت نے بیان جاری کرتے ہوئے ترکیہ سے کہا ہے کہ وہ آذربائیجان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کی ہمت نہ کرے۔
قابل ذکر ہے کہ حجاب پر پابندی اور اس سے متعلق تنازعات دنیا کے کئی ممالک میں سامنے آ چکے ہیں۔ آئیے، کچھ ایسے ممالک پر نظر ڈالتے ہیں جہاں حجاب پر پابندی عائد ہے۔
فرانس: اپریل 2011 میں فرانس نے عوامی مقامات پر پورے چہرے کو چھپانے والے اسلامی نقاب پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ایسا کرنے والا وہ پہلا یورپی ملک بنا تھا۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے کی سزا مقرر کی گئی تھی۔ یہ قانون اس وقت کے صدر نکولس سرکوزی کے دور میں بنایا گیا تھا۔ سرکوزی انتظامیہ کا ماننا تھا کہ پردہ خواتین پر ظلم کے مترادف ہے۔ تاہم، فرانس میں اس فیصلے کا خیرمقدم نہیں کیا گیا۔
نیدرلینڈز: نومبر 2016 میں نیدرلینڈز کے اراکین پارلیمنٹ نے عوامی مقامات اور عوامی ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران اسلامی نقاب پر پابندی عائد کرنے کی حمایت کی تھی۔ اس سلسلے میں بل منظور کیا گیا اور جون 2018 میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔
اٹلی: اس ملک کے کئی شہروں میں چہرہ ڈھانپنے والے نقاب پر پابندی عائد ہے۔ دسمبر 2015 میں اس سلسلے میں اتفاق رائے ہوا اور جنوری 2016 میں اسے نافذ کر دیا گیا۔ تاہم، یہ قانون پورے ملک میں نافذ نہیں ہے بلکہ اٹلی کے چند شہروں تک محدود ہے۔
جرمنی: دسمبر 2016 میں جرمنی کی اس وقت کی چانسلر انجیلا مرکل نے کہا تھا کہ ملک میں پورے چہرے کو ڈھانپنے والے نقاب پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ جرمنی کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے ججوں، فوجیوں اور سرکاری ملازمین کے لیے اس پابندی کو جزوی طور پر منظوری دے دی تھی۔ یہاں ضرورت پڑنے پر پورا چہرہ ڈھانپنے والی خواتین کے لیے چہرہ دکھانا بھی لازمی قرار دیا گیا۔
آسٹریا، ناروے اور اسپین: آسٹریا نے اکتوبر 2017 میں اسکولوں اور عدالتوں جیسے عوامی مقامات پر نقاب پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے نافذ کر دیا۔ وہیں، ناروے نے 2018 میں قانون منظور کرکے تعلیمی اداروں میں چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی عائد کر دی۔ جہاں تک اسپین کا تعلق ہے، وہاں پورے ملک میں پابندی عائد نہیں کی گئی، لیکن 2010 میں بارسلونا شہر میں عوامی مقامات پر نقاب پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔