نئی دہلی/کولکاتا، 30 ستمبر (یو این آئی) مغربی بنگال حکومت نے بدھ کے روز سپریم کورٹ میں کلکتہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے، جس کے تحت ریاست کی نندی گرام اسمبلی نشست پر ہو رہے ضمنی انتخاب کے لیے کانگریس امیدوار ملن پردھان کو عبوری ضمانت دی گئی تھی۔
ہائی کورٹ نے مسٹر پردھان کو انتخابی مہم چلانے اور انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے لیے یہ عبوری راحت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی عرضی قبول کر لی ہے اور وہ اس معاملے پر پیر کے روز سماعت کرے گی۔
ریاستی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کرتے ہوئے دلیل دی کہ مسٹر پردھان قتل کے معاملے میں ایک ملزم ہیں اور ہائی کورٹ نے انہیں صرف انتخاب لڑنے کے قابل بنانے کے لیے ضمانت دی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ محض انتخاب کی وجہ سے کسی ملزم کو خصوصی چھوٹ کیوں دی جانی چاہیے اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی سابقہ رہنما ہدایات کا حوالہ بھی دیا۔ تاہم، چیف جسٹس سوریا کانت نے فوری سماعت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی سماعت پیر کے روز کی جائے گی۔
ریاست کی جانب سے چیلنج کے خدشے کے پیشِ نظر مسٹر پردھان نے بھی بدھ کے روز سپریم کورٹ میں چار معاملات میں کیویٹ (اعتراض) کی عرضی داخل کی۔ کیویٹ کا مطلب ہے کہ عبوری ضمانت کے خلاف کیئے گئے چیلنج پر کوئی بھی حکم جاری کرنے سے پہلے عدالت ان کا موقف بھی سنے گی۔
اس سے پہلے، منگل کے روز کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس تیرتھنکر گھوش نے مسٹر پردھان کے خلاف زیر التوا تمام چھ معاملات میں تین ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت منظور کی تھی۔ عدالت نے انہیں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ہلدیا عدالت کے سامنے خودسپردگی کرنے کی ہدایت دی اور روزانہ تفتیشی افسر سے رابطہ کرنے کی شرط عائد کی تھی۔
مسٹر پردھان کو 19 ستمبر کو پوربا مدنی پور کے چاندنی پور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، 2007 کے زمین حصول مخالف تحریک کے دوران پیش آئے واقعات کے سلسلے میں ان کے خلاف نندیگرام اور کھیجوری تھانوں میں قتل، اقدامِ قتل، غیر قانونی اجتماع اور لوٹ پاٹ کے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے، جس کے بعد پانچ دیگر معاملات بھی جوڑے گئے تھے۔
اس دوران، بدھ کے روز نندی گرام میں مسٹر پردھان کے لیے انتخابی مہم چلا رہے دو کانگریس رہنماؤں، مانک فقیر اور سکرتی رنجن کو ایک گیسٹ ہاؤس سے حراست میں لے لیا گیا۔ مسٹر فقیر اور مسٹر رنجن نے الزام لگایا کہ یہ کارروائی انہیں ووٹروں تک پہنچنے اور مہم چلانے سے روکنے کے مقصد سے کی گئی ہے۔