Jadid Khabar

دہلی، ہریانہ، گریٹر نوئیڈا میں آگ کا قہر، 3 فیکٹریاں اور ایک بیکری جل کر خاک

Thumb

دہلی، ہریانہ اور گریٹر نوئیڈا میں دیر شب لگی آگ نے کروڑوں روپے کا نقصان کرا دیا۔ تینوں ہی مقامات پر لگی آگ میں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ہے، لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق 3 فیکٹریاں اور ایک بیکری جل کر پوری طرح خاک میں تبدیل ہو گئی۔ 3 فیکٹریوں میں 2 فیکٹریاں ہریانہ کے ریواڑی کی ہیں، جو ایک دوسرے سے ملحق بتائی جا رہی ہیں۔

دہلی کے نارائنا علاقہ میں دیر رات اچانک آگ لگنے کے سبب افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ نارائنا گاؤں میں ایک بیکری کی دکان میں اچانک آگ لگ گئی اور لپٹیں اونچی اٹھتی ہوئی دکھائی دیں۔ جس وقت دکان میں آگ لگی، اس وقت وہ بند تھی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دکان کے اندر شارٹ سرکٹ ہوا ہوگا، جس نے آگ کی شکل اختیار کر لی۔ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی آس پاس کے لوگوں نے پولیس اور فائر بریگیڈ کو خبر دی۔ اس کے بعد موقع پر پہنچی فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی نے کافی مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا۔ آگ کے شعلے کافی تیز تھے اور اوپری منزل تک پہنچ رہے تھے، لیکن فائر بریگیڈ کے بروقت پہنچنے سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ تاہم، بیکری میں رکھا لاکھوں روپے کا سامان جل کر خاک ہو گیا۔
دوسری طرف ہریانہ کے ریواڑی واقع باول صنعتی علاقہ کے سیکٹر 3 میں گزشتہ شب خوفناک آگ لگ گئی۔ اس آگ نے 2 فیکٹریوں کو اپنی زد میں لے لیا۔ آگ کی شدت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ساڑھے چار گھنٹے سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود شعلوں پر قابو نہیں پایا جا سکا اور پورے علاقے میں سیاہ دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے تھے۔ ہریانہ سے لے کر راجستھان کے بھیواڑی تک سے ایک درجن سے زیادہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو موقع پر بلایا گیا تاکہ آگ پر جلد قابو پایا جا سکے۔
بتایا جا رہا ہے کہ دیر شب سیکٹر 3 واقع انورٹر بیٹری چارجنگ کمپنی ’اسمارٹ اسپیس سولیوشنز‘ میں اچانک آگ کے شعلے اٹھنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے بھیانک شکل اختیار کر لی اور پوری یونٹ کو اپنی زد میں لے لیا۔ وہاں موجود ملازمین نے فائر سلنڈرز کی مدد سے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی، لیکن شعلوں کی شدت کے سامنے تمام انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔