نئی دہلی، 23 ستمبر (یو این آئی) صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کے روز گجرات کے وڈودرا میں مہاراجہ سیاجی راؤ یونیورسٹی کے 75 ویں سالانہ تقسیم اسناد تقریب میں کہا کہ تعلیم تبھی با معنی ہوتی ہے جب اس کا فائدہ ملک اور سماج کو ملے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ یونیورسٹی گزشتہ 75 سال سے علم کے مختلف دھاروں کو جوڑ کر آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں کسی بھی مسئلے کا حل صرف ایک موضوع تک محدود نہیں ہے۔ بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مختلف موضوعات کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے سائنس داں کے تجسس، فنکار کی حساسیت، مورخ کا نقطہ نظر، ماہر اقتصادیات کی سمجھ اور ماہر عمرانیات کی سوچ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراجہ سیاجی راؤ یونیورسٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو اس سمت میں مسلسل بیدار اور متحرک رہنا چاہیے۔
صدر جمہوریہ نے تقسیم اسناد کی تقریب میں طلبہ سے اپنی تعلیم اور علم کے مقصد پر غور کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ جب طلبہ اپنے پیشہ ورانہ شعبے میں ملک اور سماج کے مفاد کو ترجیح دیں گے، تو وہ خود بھی آگے بڑھیں گے اور انہیں اطمینان حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انجینئروں کو ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنی چاہیے، جس سے لوگوں کی زندگی بہتر ہو۔ ڈاکٹروں کو علاج و معالجے کو صرف پیشہ نہیں، بلکہ خدمت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ سائنس دانوں کو انسانیت کے مفاد میں مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ فنکاروں اور ادیبوں کو سماج کی حساسیت بڑھانے میں اپنا تعاون دینا چاہیے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ صنعت کاروں کو صرف جائداد ہی نہیں، بلکہ روزگار اور مواقع بھی پیدا کرنے چاہئیں۔ اساتذہ کو ایسی نوجوان نسل تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے، جو روایت اور ترقی دونوں کو اپنائے۔ عوامی زندگی میں عہدے کو اختیارات کا ذریعہ نہیں، بلکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ محترمہ مرمو نے کہا کہ ملک 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے قومی ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ایسا ہندوستان، جہاں معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات سب تک پہنچیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی فلاح کے لیے ہو، یکساں مواقع ہوں، خواتین اور نوجوانوں کی پوری صلاحیتوں کا استعمال ہو اور ہر شہری کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کو حاصل کرنے میں یونیورسٹیوں اور نوجوانوں کا اہم کردار ہے۔