Jadid Khabar

دہلی ریس کلب کو بڑا جھٹکا، پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے کلب کو 15 دن کے اندر خالی کرنے کے نوٹس پر روک لگانے سے کیا انکار

Thumb

دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے منگل (25 اگست) کو دہلی ریس کلب کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں مرکزی حکومت کی جانب سے رواں ماہ کی شروعات میں جاری کیے گئے بے دخلی کے حکم پر عبوری روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے ریس کلب کو دیے گئے 15 دن کے خالی کرنے کے نوٹس پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ ایسٹیٹ آفیسر نے ’پبلک پریمیسز (غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کو بے دخل کرنے کا) ایکٹ‘ کے تحت ریس کلب کو خالی کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے مانا کہ کلب فی الحال ایسا بادی النظر جواز پیش نہیں کر پایا، جس سے 11 اگست 2026 کے حکم پر عبوری روک لگائی جا سکے۔ عدالت نے پایا کہ کلب کے عہدیدار اپنے حق میں بادی النظر معاملہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ریس کلب کی جانب سے دلیل دی گئی کہ 11 اگست کا خالی کرنے کا حکم فطری انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ حالانکہ مرکزی حکومت نے کہا کہ کلب کی لیز 1994 سے رینیو نہیں کی گئی ہے۔ یہ کلب ریس کورس روڈ پر وزیر اعظم کی رہائش اور دہلی گولف کلب کے پاس واقع ہے۔ عدالت نے کہا کہ کلب کو اپنا موقف پیش کرنے کے کئی مواقع دیے گئے، لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے پایا کہ ایسٹیٹ آفیسر نے نہ صرف مدعا علیہ ہندوستانی حکومت کے ذریعہ دائر شکایت کی کاپی اپیل کنندہ کلب کو دی تھی بلکہ کلب کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے کافی مواقع بھی دیے تھے، جس اس نے اپنی ہی وجوہات کی بنا پر داخل نہیں کیا۔
پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (پی ڈی ایس جے) پتامبر دت نے دہلی ریس کلب کی اس عبوری عرضی کو خارج کر دیا، جس میں کلب نے اسے احاطہ خالی کرنے کے لیے دیے گئے سرکاری حکم پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معاملہ مرکزی حکومت بنام دہلی ریس کلب سے منسلک ہے۔ 11 اگست 2026 کو ایسٹیٹ آفیسر نے ’پبلک پریمیسس (غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کو بے دخل کرنے کا) ایکٹ‘ کے تحت ریس کلب کو خالی کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ حکم کے مطابق کلب کو 15 دن کا وقت دیا گیا تھا۔
دہلی ریس کلب راجدھانی کے سنٹرل گولف لنک روڈ پر واقع ہے اور وزیر اعظم کی سرکاری رہائش کے سامنے کا علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کا محل وقوع انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔ یہ کلب گھڑ دوڑ سے وابستہ پرانی تنظیموں میں شامل ہے اور اس کے قیام کو ایک صدی سے زائد کا وقت گزر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احاطہ خالی کرنے کا تنازعہ صرف ایک جائیداد سے متعلق معاملہ نہیں ہے بلکہ راجدھانی کے اہم علاقوں میں سرکاری زمین کے استعمال اور پرانے لیز حقوق سے جڑے سوالات بھی سامنے لاتا ہے۔