لکھنؤ، 22 اگست (یواین آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور اس کے سربراہ اکھلیش یادو پر شدید حملہ کیا ہے۔
انہوں نے ایس پی کو ''انتہائی متکبر'' اور ''ذات پات کی سیاست'' کرنے والی پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے اتحادی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے تئیں سیاسی تنگ نظری اور ذات پات پر مبنی عداوت کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔ مایاوتی نے کہا کہ ایس پی صدر کی جانب سے راشٹریہ لوک دل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دیا گیا بیان مکمل طور پر غیر مہذب، ناشائستہ اور انتہائی شرمناک ہے۔ اس طرح کی بیان بازی کے لیے اکھلیش یادو کو نہ صرف راشٹریہ لوک دل اور اس کے سابق رہنما چودھری چرن سنگھ کے خاندان سے بلکہ پورے معاشرے سے فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے۔
بی ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ ایس پی کی سیاست میں اپنے مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اتحادیوں کے تئیں بھی سیاسی تنگ نظری اور ذات پات کی بنیاد پر عداوت حاوی رہی ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ اسی وجہ سے ایس پی بار بار اتحاد کرتی ہے اور کچھ عرصے بعد اتحاد توڑ دیتی ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے 1993 میں ایس پی-بی ایس پی اتحاد اور 1995 کے لکھنؤ گیسٹ ہاؤس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعد میں اکھلیش یادو نے یقین دلایا تھا کہ وہ اپنے والد ملائم سنگھ یادو کی طرح ماضی کی غلطیاں دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کا اتحاد بھی انتخابی نتائج موافق نہ آنے کے کچھ عرصے بعد ٹوٹ گیا۔
محترمہ مایاوتی نے کہا کہ بی ایس پی سماجی عزت اور خودداری کے ساتھ ''سب کے مفاد، سب کی خوشحالی'' کی پالیسی سے کبھی انحراف نہیں کر سکتی۔ انہوں نے ایس پی پر دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور خاص طور پر برہمن سماج کے استحصال کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اکھلیش یادو سیاسی مفاد کے لیے اپنے 'پی ڈی اے' میں 'پی' کو کبھی پسماندہ طبقے اور کبھی پنڈتوں کا خیرخواہ قرار دیتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایس پی کی حکومتوں میں پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور دیگر برادریوں کے ساتھ ساتھ برہمن سماج کے مفادات کو بھی نظر انداز کیا گیا۔
محترمہ مایاوتی نے اتر پردیش کے عوام سے آئندہ اسمبلی انتخابات میں ایس پی کو اقتدار سے دور رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا ریاست کے وسیع تر مفاد میں ہوگا۔