نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ پی چدمبرم نے بدھ کے روز لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کو برقرار رکھنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اگر نشستوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا گیا تو پارلیمنٹ ایک باقاعدہ ایوان کے بجائے عوامی اجتماع جیسی دکھائی دینے لگے گی۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کی نشستوں کو 543 پر منجمد کیا جانا چاہیے اور ریاستوں کی موجودہ نمائندگی کو کم نہیں کیا جانا چاہیے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی چدمبرم نے کہا، ’’لوک سبھا کو 543 پر فریز کیا جانا چاہیے، ورنہ یہ چین کی پارلیمنٹ جیسی ہو جائے گی۔ یہ ایوان نہیں، ایک عوامی اجتماع بن جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کی موجودہ لوک سبھا نمائندگی ملک کی مجموعی نشستوں کا تقریباً 7.18 فیصد ہے۔ ان کے مطابق تمل ناڈو سمیت تمام جنوبی ہندوستانی ریاستوں کی موجودہ نمائندگی بھی برقرار رکھی جانی چاہیے۔
چدمبرم نے کہا کہ جن ریاستوں نے آبادی پر قابو پانے اور خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو سنجیدگی سے نافذ کیا، ان پر اس کا جرمانہ عائد نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی ریاستوں کی پارلیمانی نمائندگی کیوں کم کی جائے جو طویل عرصے سے خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسیوں پر عمل کرتی رہی ہیں۔کانگریس رہنما نے کہا، ’’اس حد بندی بل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ریاستوں کی موجودہ نمائندگی کو کم نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہمیں کیوں سزا دی جا رہی ہے؟ ان ریاستوں کو کیوں سزا دی جا رہی ہے جنہوں نے ایمانداری اور اتفاق رائے کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کو نافذ کیا ہے؟‘‘
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں آئندہ حد بندی کے عمل اور اس کے ذریعے مختلف ریاستوں کی پارلیمانی نمائندگی میں ممکنہ تبدیلی کو لے کر سیاسی بحث تیز ہے۔ جنوبی ریاستیں بالخصوص اس خدشے کا اظہار کرتی رہی ہیں کہ آبادی کو بنیاد بنانے کی صورت میں بہتر آبادی پر قابو پانے والی ریاستوں کو لوک سبھا میں نشستوں کے معاملے میں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
چدمبرم نے جھارکھنڈ میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی سمیت کئی افراد نے پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن چونکہ یہ واقعہ پیش آ چکا ہے، اس لیے وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔
دریں اثنا، جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (جے ایس ایس سی) کی بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج بدھ کو رانچی میں مسلسل 19ویں روز بھی جاری رہا۔