ہاکی ٹیم کی جرسی کا رنگ بدلنا عوام کے جذبات کی توہین : کھرگے
نئی دہلی، یکم اگست (یو این آئی) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ہندستانی ہاکی ٹیم کی جرسی کا رنگ بدلنے کے فیصلے کی شدید تنقید کرتے ہوئے اسے کروڑوں ہندوستانیوں کے جذبات کی توہین بتایا اور کہا کہ عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے کو واپس لیا جانا چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے ہفتہ کو حکومت اور متعلقہ کھیل حکام سے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، "ہاکی ٹیم کی جرسی کا رنگ بدلنا صرف ایک کھیل سے متعلق فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کی کھیل روایت، کھلاڑیوں کی شناخت اور عوام کے جذبات سے جڑا معاملہ ہے۔ برسوں سے ہندستانی ہاکی ٹیم 'مین ان بلیو'، 'دی بلیوز' اور 'بلیو ٹائیگرز' کے نام سے عالمی سطح پر پہچانی جاتی رہی ہے۔ اس تاریخی شناخت کو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے بدلنے کی کیا ضرورت تھی۔" کانگریس صدر نے فیصلے کے عمل پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ اتنا اہم فیصلہ ہاکی انڈیا کے ایگزیکٹو بورڈ کی اطلاع اور رضامندی کے بغیر کیسے کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور ہاکی انڈیا کو اس پر فوری طور پر نظرثانی کرنی چاہیے اور عوامی طور پر وضاحت دینی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ کیسریا، سفید اور ہرا- یہ تینوں رنگ بھارتی ترنگے میں مساوی احترام کے ساتھ موجود ہیں۔ ان رنگوں کو بدلنے کی کوشش قومی علامتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جن کا تحریک آزادی میں کوئی کردار نہیں رہا، وہ اب قومی اداروں اور کھیلوں پر اپنے نظریاتی نقوش چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کانگریس نے یاد دلایا کہ آر ایس ایس نے تاریخی طور پر ترنگے کی مخالفت کی تھی اور سردار ولبھ بھائی پٹیل نے انہیں خبردار بھی کیا تھا۔
پارٹی نے کہا کہ پہلے سڑک کے پیومنٹ، پارلیمنٹ کے عملے کی وردی، دوردرشن کا لوگو اور اب کھلاڑیوں کی جرسی - ان تمام جگہوں پر بغیر وسیع اتفاق رائے کے تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ قومی علامتوں، کھیل کی جذبے اور کھلاڑیوں کو کسی بھی قسم کے سیاسی تجربے کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے میں جوابدہی طے کی جائے اور کھلاڑیوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اصل جرسی کے رنگ کو بحال کیا جائے۔