سیوٹا مہاجر بحران: اٹلی کے بعد فرانس نے بھی اسپین کے ساتھ سرحدی نگرانی سخت کر دی
فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے کہا ہے کہ مراکش کے شمال میں واقع ہسپانوی علاقے سیوٹا میں بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد کے بعد فرانس نے اسپین کے ساتھ سرحدی کنٹرول بڑھا دیا ہے۔ فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’سیوٹا میں شینگن علاقے کی طرح آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت نہیں ہے۔ تاہم میں نے کل وزیر داخلہ سے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسپین سے متصل ہماری سرحد پر کنٹرول مزید سخت کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے پولیس کی 4 موبائل یونٹس، ایک طیارہ اور ڈرونز تعینات کیے گئے ہیں۔‘‘
سیوٹا کے مقامی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 60000 تارکین وطن زمینی اور سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر سیوٹا میں داخل ہوئے ہیں۔ نیوز ایجنسی ’سنہوا نے ہسپانوی روزنامے ’ایل پائیس‘ کے حوالے سے بتایا کہ تیر کر اس علاقے میں پہنچنے کی کوشش کے دوران 57 تارکین وطن کی موت ہو گئی۔ ہسپانوی حکومت نے بتایا کہ جمعہ کی دوپہر تک تقریباً 48000 تارکین وطن مراکش واپس جانے کے لیے ہسپانوی علاقے کو چھوڑ چکے تھے۔
اس دوران اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے جمعہ کی شام کو کہا کہ روم اٹلی کی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعظم میلونی کے اس فیصلے میں اسپین کے ساتھ شینگن ایریا کو معطل کرنا بھی شامل ہے۔ وزیر اعظم میلونی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک مشترکہ بیان میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’سیوٹا سے آنے والی تصاویر حیران کن ہیں اور ایک بار پھر یہ دکھاتی ہیں کہ بغیر کنٹرول والی غیر قانونی امیگریشن یورپ کی سرحدوں کی سیکورٹی کے لیے ایک یقینی خطرہ ہے۔ میں نے وزیر داخلہ ماٹیو پیانٹیدوسی سے بات کی ہے۔ اٹلی خاموش کھڑا ہو کر نہیں دیکھے گا۔‘‘
وزیر اعظم میلونی نے مزید کہا کہ ’’ہم متعلقہ محکمے کو بلا رہے ہیں، اور ان اجلاسوں کے بعد ہم سرحد کے تحفظ اور شہریوں کی سیکورٹی کے لیے خاص اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہیں، جس میں اسپین کے ساتھ شینگن ایریا کو معطل کرنا بھی شامل ہے۔ غیر قانونی امیگریشن پر ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ سرحدوں کی حفاظت کرنا، انسانی اسمگلنگ کو روکنا اور مؤثر طریقے سے لوگوں کو واپس بھیجنا اس حکومت کی بنیادی پالیسی رہے گی۔‘‘
اٹلی کے نائب وزیر اعظم انٹونیو تاجانی نے بھی ایسی ہی اپیل کی۔ تاجانی نے اسپین حکومت کے 500000 سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن کو ہسپانوی اور یورپی شہریت دینے کے فیصلے کو بہت غلط بتایا اور اسپین کے لیے شینگن ایریا بند کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’’میں اسپین کے لیے شینگن ایریا بند کرنے کے حق میں ہوں، اور مجھے وزیر پیانٹیدوسی پر پورا بھروسہ ہے۔ غیر قانونی اور بے لگام امیگریشن قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ سیوٹا سے آنے والی تصاویر یہ دکھاتی ہیں کہ میڈرڈ حکومت کا 500000 سے زیادہ غیر قانونی تارکین وطن کو ہسپانوی اور اس کے نتیجے میں یورپی شہریت دینے کا فیصلہ کتنا غلط ہے اور یہ انسانی اسمگلنگ کو فروغ دیتا ہے۔‘‘