Jadid Khabar

مقبوضہ کشمیر میں 4 دنوں کے اندر 50 سے زائد اموات

Thumb

 
پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بدامنی لگاتار بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ گزشتہ 4 دنوں میں ہی پاکستانی فوج کے قبضہ والے خطہ میں کی گئی جابرانہ کارروائی میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ پُرامن مظاہرین پر پاکستانی فوج کی اس کارروائی میں اب تک مجموعی طور پر تقریباً 150 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے رکن سردار عمر نظیر کشمیری نے کہا کہ ’’گزشتہ 4 دنوں میں سیکورٹی فورسز نے ظالمانہ دہشت گردی کے ذریعہ ہمارے 50 سے زائد لوگوں کو مار ڈالا ہے اور سینکڑوں زخمی ہیں۔‘‘ ایک دیگر پوسٹ میں جے اے اے سی نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مظفر آباد خطہ میں گزشتہ دیر شب تک احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ لوگ سڑکوں پر ڈٹے رہے اور اپنے بنیادی حقوق کی حفاظت و مقامی افسران کے ذریعہ کیے گئے عزائم پر عمل کا مطالبہ کرتے رہے۔
اس درمیان امریکہ واقع حقوق انسانی تنظیم ’ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن‘ (ایچ آر اے ایف) نے ہفتہ کے روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں غیر مسلح پُرامن مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف پاکستانی فوج کے ذریعہ مبینہ طور پر طاقت کے استعمال کی سخت تنقید کی، جس میں خطہ میں 50 سے زائد لوگ مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ تنظیم نے پاکستانی افسران سے پُرتشدد کارروائی ختم کرنے، موبائل سروس بحال کرنے اور طاقت کے سبھی غیر قانونی استعمال کے لیے جوابدہی یقینی بنانے کی گزارش کی۔ مقامی شہری سماج کا حوالہ دیتے ہوئے ایچ آر اے ایف نے کہا کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں مظاہروں کے دوران ہزاروں پُرامن مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’احتجاجی مظاہرہ کے منتظمین نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی افسران نے ثبوتوں کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے اسپتالوں میں لاشوں کو ہٹا دیا اور کارکنان کو حراست میں لے لیا۔‘‘
اس درمیان متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (یو کے پی این پی) کے سربراہ سردار شوکت علی کشمیری کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد نے نیویارک میں اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر میں کئی میٹنگیں کیں، تاکہ اقوام متحدہ کے افسران کو پاکستان مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی فوج کے ذریعہ کی گئی بربریت کے بارے میں جانکاری دی جا سکے۔ ان میٹنگوں کے دوران نمائندہ وفد نے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بگڑتے حقوق انسانی کے حالات پر شدید فکر ظاہر کی۔ اس نے اقوام متحدہ، بین الاقوامی طبقہ، حکومتوں، حقوق انسانی تنظیموں اور جمہوری اداروں سے خطہ میں مزید جان و مال کے نقصان کو روکنے اور بنیادی حقوق انسانی کی حفاظت کے لیے فوری اور اثردار کارروائی کرنے کی گزارش کی۔