پیپر لیک اور گھوٹالوں نے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا: شیو سینا یو بی ٹی
ممبئی: شیو سینا یو بی ٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپر لیک، بدعنوانی اور غیر قانونی تقرریوں کے باعث ملک کا تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ مہاراشٹر اس نظامی بدعنوانی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست بن گیا ہے۔
پارٹی کے ترجمان ’سامنا‘ کے جمعرات کو شائع ہونے والے اداریے میں ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی تعلیمی پالیسیوں پر سخت تنقید کی گئی۔ اداریے میں کہا گیا کہ امتحانی پرچوں کے مسلسل لیک ہونے، معیار پر پورا نہ اترنے والے وائس چانسلروں کی غیر قانونی تقرریوں اور بڑے مالی گھوٹالوں نے تعلیمی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
اداریے کے مطابق حالیہ عرصے میں مہاراشٹر میں ایک ماہ کے اندر 10 سے زائد امتحانات کے پرچے لیک ہوئے، جن میں مہاراشٹر کامن انٹرنس ٹیسٹ (سی ای ٹی) بھی شامل ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) نے کہا کہ دن دہاڑے پرچے لیک ہو رہے ہیں اور امتحانی نتائج میں بھی دھاندلی کی جا رہی ہے، جس سے عوام کا پورے نظام پر اعتماد متزلزل ہو گیا ہے۔
اداریے میں کہا گیا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اگر یہی بنیاد کمزور ہو جائے تو پورا معاشرہ اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ ریاست کی جامعات اور تعلیمی ادارے اب میرٹ کے بجائے سیاسی اور نظریاتی مفادات کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔
شیو سینا یو بی ٹی نے چند بدعنوانی کے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے پربھنی زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے متعلق کروڑوں روپے کے مالی گھوٹالے کا ذکر کیا۔ اس کے علاوہ جلگاؤں سے بی جے پی رہنما سنجے گروڑ کی 160 کروڑ روپے کے ’شالارتھ آئی ڈی‘ گھوٹالے میں گرفتاری کا حوالہ بھی دیا گیا۔
اداریے میں مرکزی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اس نے تاریخ کی نصابی کتابوں میں ایسی تبدیلیاں کیں جن سے آزادی کی جدوجہد میں کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں اور سوشلسٹ رہنماؤں کے کردار کو کم کر کے پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ غیر سائنسی نظریات کو فروغ دینے کے دباؤ کے باعث کئی محققین اور سائنس دان اہم قومی اداروں، بشمول اسرو، کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
شیو سینا یو بی ٹی نے معاشی طور پر کمزور طلبہ اور خوشحال طبقے کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اداریے میں کہا گیا کہ متوسط طبقے کے والدین اپنے بچوں کو مہنگی کوچنگ دلانے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں، جبکہ صاحبِ حیثیت افراد لیک شدہ پرچے خرید کر یا مخصوص امتحانی مراکز میں اثر و رسوخ استعمال کر کے کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔
پارٹی نے دعویٰ کیا کہ پونے، جو کبھی تعلیم اور علم کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اب پیپر لیک کے واقعات کی وجہ سے بدنام ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی مہاراشٹر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات نافذ کرنے کے بجائے ہر معاملے میں خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے تک محدود ہے۔