Jadid Khabar

’آپ بہت زیادہ دن چھپ کر نہیں رہ سکتے، ایک دن کھینچ کر عوام کے سامنے لائیں گے‘، راجیہ سبھا میں کھڑگے کا تلخ تبصرہ

Thumb

 
راجیہ سبھا میں ’اینٹی پیپر لیک بل‘ پر زوردار بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے ’پیپر چرانے والے بچتے رہے...‘ کی شاعری سے اپنی تقریر کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے 2024 میں ہی مضبوط قانون کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس وقت آپ نے ہماری بات نہیں مانی۔ تب آپ جلد بازی میں بل لے کر آئے تھے۔ انتخابات قریب تھے اور راہل گاندھی بھارت جوڑو یاترا پر تھے، اس لیے آپ کو اس کا کریڈٹ نہیں مل پاتا۔ ہم اس ترمیمی بل کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن اس میں بھی آپ کی نیک نیتی نظر نہیں آتی۔ موجودہ حالات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے یہ بل لایا گیا ہے، مسئلے کے حل کی نیت سے نہیں۔ یہ بل اب بھی نامکمل ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’گزشتہ 2 ماہ کے دوران جو حالات بنے، ان کی وجہ سے ملک بھر کے طلبا سڑکوں پر آ گئے اور وزیر اعظم کو دھرمیندر پردھان کو ہٹانا پڑا۔ نوجوانوں کی طاقت کے سامنے جھکنا پڑا۔ اپنی کرسی بچانے کے خوف سے ان کے مطالبات ماننے پڑے۔‘‘
کانگریس صدر کھڑگے نے ایوانِ بالا میں اپنی بات مضبوطی کے ساتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’’جب راہل گاندھی ان کی (وزیر اعظم کی) رہائش گاہ کے باہر پہنچ گئے، تب انہیں محسوس ہوا کہ اب اس معاملے کو مزید بڑھانا مناسب نہیں۔ اپنی کرسی بچانے کے لیے خوف کے باعث انہیں دھرمیندر پردھان کو ہٹانا پڑا۔ جب طلبا مہینوں سے دھرنے پر بیٹھے تھے، تب آپ نے ان کی بات کیوں نہیں سنی؟ اگر دھرنے کے دو دن بعد ہی نڈا صاحب وہاں چلے جاتے تو طلبا کو لاٹھیاں نہ کھانی پڑتیں۔ یہ سب کچھ نہ ہوتا۔‘‘ امت شاہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’امت شاہ صاحب تو کہیں دکھائی ہی نہیں دے رہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آ کر اپنی رائے دیتے ہیں، لیکن اس معاملے پر سامنے کیوں نہیں آتے، مجھے معلوم نہیں۔ وزیر اعظم بھی خاموش ہیں۔ آپ (امت شاہ) وزیر داخلہ ہیں، قانون و انتظام کی ذمہ داری آپ کے پاس ہے، دہلی میں اتنی بڑی گڑبڑ کے باوجود بھی آپ خاموش ہیں۔ کیا آپ نے اپنے منھ پر ٹانکے لگوا لیے ہیں؟‘‘
کھڑگے نے کہا کہ ہزاروں طلبا نے پارلیمنٹ کی جانب پُرامن مارچ کیا۔ وہ بات چیت چاہتے تھے، لیکن انہیں لاٹھی چارج، آنسو گیس، پیلیٹ گن، ریلوے اسٹیشنوں کو بند کرنے اور انٹرنیٹ کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے طلبہ مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’’آپ انہیں پُرامن طریقے سے سنبھال نہیں سکے۔ کئی طلبہ زخمی ہوئے، متعدد کی آنکھوں میں چھروں کے ذرات لگے۔ یہ دیکھ کر ہمیں شرم آئی، انہیں (امت شاہ کو) آئی یا نہیں، مجھے معلوم نہیں۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’میرے وہ طلبا جو گاؤں گاؤں سے آئے تھے، ان پر پیلیٹ گن استعمال کی گئی۔ ان کے ہاتھ پاؤں ٹوٹ گئے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وزیر داخلہ۔‘‘ تلخ رویہ اختیار کرتے ہوئے انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’آپ بند کمرے میں میری بات سن رہے ہوں گے، لیکن زیادہ دن تک چھپ نہیں سکتے۔ ایک دن ہم آپ کو باہر نکال کر عوام کے سامنے لائیں گے اور دکھائیں گے کہ حقیقت کیا ہے۔‘‘