شادی کی خوشیاں بھگدڑ میں تبدیل! گجرات میں کھانا کھانے کے بعد 400 سے زائد لوگ بیمار، گاؤں میں افرا تفری
گجرات کے داہود واقع گاؤں ابولود میں شادی کی خوشیاں اچانک بھگدڑ میں بدل گئیں۔ یہاں شادی کی دعوت میں کھانا کھانے کے بعد کئی لوگ اچانک بیمار ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق شادی میں تقریباً 1200 افراد شریک ہوئے تھے۔ ان میں سے 400 سے زائد افراد کی صحت کھانا کھانے کے بعد بگڑ گئی جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔ شادی میں شرکت کرنے والوں کے مطابق گزشتہ شام گاؤں والوں اور مہمانوں نے شادی میں سیر ہو کر کھانا کھایا تھا جس کے تقریباً دو گھنٹے بعد ہی اس کے منفی اثرات نظر آنے لگے۔ اس میں سب سے پہلے بزرگوں کے پیٹ میں درد ہوا، اس کے بعد اسہال اور الٹیاں ہونے لگیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی اور بچے اور جوان سمیت ہر کوئی بیک وقت بیمار ہونے لگا۔
گاؤں میں ایک ساتھ اتنے زیادہ لوگوں کی صحت میں اچانک گڑبڑی ہونے سے افرا تفری مچ گئی۔ اس دوران پورے گأوں میں 108 نمبر کی ایبولینس کے سائرن کی آواز گونج رہی تھی۔ جن لوگوں کو ایمبولینس نہیں ملی وہ فوری طور پر اپنی ذاتی گاڑیوں یا جو بھی ذرائع انہیں حاصل ہوئے ان سے مریضوں کو لے کر داہود واقع جوائڈس اسپتال کی جانب دوڑ پڑے۔ واردات کے بعد دیر رات 12 بجے تک متاثرہ لوگوں کی تعداد 400 سے زیادہ ہوگئی تھی۔ ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کے پہنچنے سے جوائڈس اسپتال انتظامیہ میں بھی کھلبلی مچ گئی اور اسپتال کے ملازم جنگی پیمانے پر مریضوں کا علاج کرنے میں مصروف ہوگئے۔
اس سنگین واردات کی اطلاع ملتے ہی گرباڑہ کے ایم ایل اے مہیندر بھائی بھابھور بھی اسپتال پہنچ گئے اور مریضوں کی حالت دریافت کرنے کے بعد ڈاکٹروں کو ضروری ہدایات دیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ ممکن ہے کہ شادی میں پیش کردہ پنیر کی سبزی یا آم کے جوس کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہو۔ حالانکہ محکمہ صحت کی ٹیمیں بھی فوری حرکت میں آگئیں اور موقع پر جاکر کھانے کے نمونے لینے کے بعد ان کی جانچ شروع کردی ہے۔ واردات کے سلسلے میں ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ہم وہاں ایک شادی میں تھے۔ کھانے میں جوس، پوری، دال بھات اور پنیر کی سبزی شامل تھا۔ اسے کھانے کے بعد مجھے اور گاؤں والوں سمیت تقریباً 400-500 لوگوں کو الٹیاں ہونے لگیں جس کے بعد ہمیں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔