کانگریس پارٹی ہمیشہ خواتین ریزرویشن کی حمایت میں رہی ہے: ملکارجن کھڑگے
آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں پاس ہونے میں ناکام ہونے کے بعد خواتین کے ریزرویشن پر سیاسی ہنگامہ آرائی تیز ہوگئی ہے۔ حکمراں جماعت اور اپوزیشن دونوں ہی اس سلسلے میں بیانات دے رہے ہیں۔ اس دوران کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ ’’کانگریس پارٹی ہمیشہ خواتین ریزرویشن کے حق میں رہی ہے۔ ہم نے 2023 میں خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کرتے ہوئے اسے منظور بھی کروایا تھا۔ لیکن اب مودی حکومت نے خواتین ریزرویشن کی آڑ میں ایک اور ترمیم پیش کی، جس میں انہوں نے حد بندی کا التزام شامل کر دیا۔‘‘
ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ ’’اس طرح حکومت نے خواتین ریزرویشن اور حد بندی سے متعلق بلوں کو ایک ساتھ ملا دیا۔ حد بندی سے جڑا بل لا کر مودی حکومت اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’حکومت سے ہمارا کہنا تھا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہی ہے تو لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کے دائرے میں ہی دے دیجیے۔ پھر مردم شماری اور حد بندی مکمل ہونے کے بعد، حکومت اسے آئندہ انتخاب میں بڑھا دے، لیکن وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ کانگریس صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’دراصل، مودی حکومت کا ارادہ آئین کے ڈھانچے کو بدل کر، انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا ہے۔‘‘
ملکارجن کھڑگے کے علاوہ کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کا بھی بیان سامنے آیا ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’انہیں (مرکزی حکومت) چاہیے کہ وہ پرانا خواتین بل، جسے تمام پارٹیوں نے منظور کیا تھا، فوری طور پر پیر کے دن پیش کریں۔ پیر کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیں، بل پیش کریں اور دیکھتے ہیں کون خواتین مخالف ہے۔ ہم سب ووٹ دیں گے اور آپ کی حمایت کریں گے۔‘‘