Jadid Khabar

’خواتین ریزرویشن بل‘ فریب کا سیاہ دستاویز، پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے پہلے اکھلیش یادو برہم

Thumb

 
 مختلف حلقوں سے شدید مخالفت کے درمیان مرکزی حکومت آج پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن سےمتعلق ’آئینی ترمیمی بل‘ پیش کرنے جارہی ہے، جس کی کئی اپوزیشن جماعتیں بھی سخت مخالفت کرنے اور اس کی حد بندی سے متعلق دفعات کے خلاف ووٹ دینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اس دوران سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو نے بل پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باشعور خواتین اس بار ان کے فریب اور بہکاوے میں نہیں آئیں گی۔
ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے ’ایکس‘پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ خواتین ریزرویشن بل بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے نئے فریب کا ایک ’سیاہ دستاویز‘ ہے، جو دراصل ’خفیہ لوگوں کا خفیہ منصوبہ ہے‘۔ یہ پسماندہ اور دلت طبقوں کی خواتین کو مستقل طور پر کمزور کرنے کی ایک سازش ہے، انہیں حقیقی عوامی نمائندگی سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ بل خواتین کے لیے استحصالی اور جابرانہ ذہنیت سے پیدا ہوا ہے۔ خواتین ریزرویشن بل ایک ’ عوام مخالف جملے‘ سے زیادہ کچھ اورنہیں ہے‘۔
اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے مزید لکھا کہ بیدار اور باشعور خواتین اس بار ان کے فریب اور بہکاوے میں نہیں آئیں گی۔ یہ بل بی جے پی کی ’گھٹیا سیاست‘کو بے نقاب کردے گا۔ جیسے جیسے بی جے پی کی مخالفت بڑھے گی، اس طرح کے کئی اور بل لائے جائیں گے، جن کا بنیادی مقصد ’پی ڈی اے‘ کے لگتار بڑھتے ہوئے اتحاد کو کمزور کرنا اور کسی بھی طرح سے اقتدار پر قابض رہنا ہے۔ بی جے پی اپنی میعاد ختم ہونے کے آخری مہینوں میں چل رہی ہے۔
اس سے پہلے بدھ کے روز اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ ہم خواتین ریزرویشن کے ساتھ ہیں مگر اس بھاجپائی چالبازی کے خلاف ہیں جو ایک سازش کے تحت کی جارہی ہے۔ ایس پی سربراہ کے مطابق بھاجپائی اور ان کے اتحادی ملک کی سب سے بڑی آبادی کے زمرہ ’ پسماندہ طبقہ‘ کی خواتین کے بارے میں خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ ترمیم کے نام پر جو جلدبازی کا مظاہرہ کررہے ہیں، وہ دراصل اس کے پیچھے بھاجپائیوں کی منشا یہ ہے کہ مردم شماری نہ کرنی پڑے کیونکہ اگر مردم شماری ہوئی تو ذات پر مبنی اعدادوشمار بھی دینے پڑیں گے اور ذات پر مبنی ریزرویشن بھی۔ اکھلیش نے پوسٹ میں لکھا کہ یہ بی جے پی کی بہت بڑی سازش ہے جس میں مردم شماری پر مبنی حدبندی سے انکار کرکے پسماندہ طبقات کا حق لوٹا جارہا ہے۔ پارٹیوں کو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر اسے نافذ کرنے کی چھوٹ ملنی چاہلے۔