لکھنؤ، 15 اپریل (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے کہا ہے کہ ناری شکتی وندن ادھینیم میں 33 فیصد ریزرویشن میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی خواتین کے لیے الگ سے کوٹہ یقینی کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے وارننگ دی کہ اگر ایسا التزام نہیں کیا گیا، تو اس قدم کا حقیقی مقصد کافی حد تک بے اثر ہو جائے گا۔
محترمہ مایاوتی نے لکھنؤ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی جانب سے خواتین ریزرویشن کے معاملے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے زیر التوا اس 33 فیصد ریزرویشن کو نافذ کرنے کی پہل ''مناسب اور قابل ستائش'' ہے، چاہے اس میں تاخیر ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔
سابق وزیر اعلیٰ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سماج، سیاست اور معیشت میں مسلسل پسماندگی کا شکار رہی ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقے کی خواتین کے لیے الگ ریزرویشن کا التزام کیا جانا تاریخی اور منصفانہ قدم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف عام خواتین ریزرویشن سے ان طبقات کی حقیقی شراکت داری یقینی نہیں ہو پائے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پارلیمنٹ میں خاتون ریزرویشن نافذ کرنے کے حوالے سے سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ناری شکتی وندن ادھینیم، 2023 میں ترامیم پر 16 اپریل کو بحث ہونی ہے، ساتھ ہی حد بندی سے متعلق بل پر بھی غور کیا جائے گا۔ حکومت 2029 کے عام انتخابات سے لوک سبھا میں 33 فیصد خاتون ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے آئینی ترمیم لانے کی تیاری میں ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت لوک سبھا کی کل نشستیں 543 سے بڑھا کر 816 کی جا سکتی ہیں، جن میں سے 273 نشستیں خواتین کے لیے ریزروہوں گی۔
سابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے خاتون ریزرویشن بل کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے جلد سے جلد نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو پارٹی سیاست سے اوپر اٹھ کر اس اہم بل کو نافذ کرانے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ریزرویشن بل کے نافذ ہونے سے خواتین کو سیاست میں مناسب نمائندگی ملے گی، جس سے جمہوریت اور زیادہ مضبوط ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی نصف آبادی کو ان کے حقوق کے مطابق حصے داری دینا وقت کا تقاضہ ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ اس بل کو نافذ کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے، تاکہ خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ٹھوس قدم اٹھایا جا سکے۔