لکھنؤ، 24 اگست (یو این آئی) اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کے ایودھیا میں ہنومان گڑھی کے درشن کرنے اور اس کے بعد مچھلی کی دعوت میں شامل ہونے پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے پارٹی کا دوہرا رویہ قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ملک کی یکجہتی اور آزادی کی لڑائی کو آگے بڑھانا ہے تو سب کو متحد ہو کر کوشش کرنا ہوگی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کے لوگ ملک کی وراثت کا احترام کرنے کے بجائے اس کی توہین کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ریاستی صدر کا رویہ بھی لوگوں نے دیکھا ہے۔ وہ ایودھیا میں ہنومان گڑھی کے درشن کرنے جاتے ہیں اور اس کے بعد مچھلی کی دعوت اڑاتے ہیں۔
یوگی نے کہا، ''یہ رام رام چلاتے ہیں، بے شرمی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ کس نے کہا تھا ہنومان گڑھی جانے کے لیے اور مچھلی کھانی تھی تو ایودھیا سے باہر جا کر کھا لیتے۔''
یوگی نے کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اس کا دوہرا رویہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کانگریس کے رہنماؤں کو دیکھ کر تو گرگٹ بھی شرمندہ ہوتا ہوگا کہ انسان کی شکل میں یہ کون سی نسل آ گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف کانگریس کے رہنما مندر میں جا کر رام رام چلاتے ہیں اور بجرنگ بلی کے مندر میں ماتھا ٹیکنے کا ڈھونگ کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف باہر جا کر مچھلی کی دعوت اڑاتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کانگریس کے ریاستی صدر کے مبینہ سابقہ رویے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ریاستی صدر کے بھائی کا قتل ایک مافیا نے کیا تھا، لیکن انہوں نے اس مافیا کے خلاف بیان دینے کے بجائے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور سر جھکا دیا۔
یوگی نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں میں مافیا کا اثر اتنا بڑھ گیا تھا کہ اتر پردیش کو مافیا ریاست بنا دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی گئی اور ان کے اثر و رسوخ کو ختم کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم کی گئی ہے اور حکومت جرائم اور مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔