کولکاتا کے شمالی علاقے میں رات بھر ہونے والی شدید بارش کے بعد منگل کی علی الصبح 200 سال پرانی ایک عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔ حادثے میں ایک خاتون کی موت ہوگئی، جبکہ 19 افراد ملبے میں پھنس گئے تھے۔ ملبے سے برآمد ہونے والی لاش کی شناخت ارمیلا شا کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ مکان شمالی کولکاتا کے شملہ-بیڈن اسٹریٹ علاقے میں برج دلال اسٹریٹ پر واقع ہے۔ یہ جگہ گرش پارک اور چترنجن ایونیو کے قریب ایک انتہائی مصروف علاقے میں واقع ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ارمیلا شا صبح کسی کام سے گھر سے باہر نکلنے ہی والی تھیں کہ اچانک پوری عمارت دھڑام سے گر گئی اور وہ موقع پر ہی ملبے تلے دب گئیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال فائر بریگیڈ، ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ٹیمیں ملبے میں پھنسے دیگر 19 افراد کو نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً 200 سال پرانی 3 منزلہ عمارت تھی اور اس میں آمدورفت کے لیے صرف ایک ہی راستہ تھا۔ کولکاتہ میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے اس مکان کو کافی عرصہ پہلے ہی ’خستہ حال اور خالی کرنے کے قابل‘ قرار دے دیا تھا۔ اس کے باوجود یہاں 20 افراد رہ رہے تھے۔ مکان کے سامنے والی گلی بہت تنگ ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو راحت اور بچاؤ کے کام میں کافی دشواری پیش آ رہی ہے۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ صبح اچانک تیز آواز سنائی دی تو پورے علاقے کے لوگ خوف زدہ ہوگئے۔ جب لوگ دوڑ کر موقع پر پہنچے تو دیکھا کہ رات بھر کی بارش کے بعد مکان منہدم ہوچکا تھا۔ ملبے کے نیچے ارمیلا شا کی لاش نظر آئی۔ کے ایم سی کو اطلاع دی گئی جس کے بعد لاش نکالی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے شوہر اور بیٹے بھی ملبے میں پھنسے 19 افراد میں شامل تھے۔ کے ایم سی کے افسران نے پہلے بھی اس عمارت کو خالی کرنے یا مکمل مرمت کرانے کی کئی بار ہدایت دی تھی۔ کچھ پرانے مکینوں نے میونسپل کارپوریشن کی بات مان کر مکان خالی کر دیا تھا، لیکن باقی لوگ وہیں رہتے رہے۔
کولکاتا میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کی کمشنر اسمتا پانڈے نے کہا کہ ’’صبح تقریباً 6 بجے عمارت کا ایک حصہ گر گیا۔ پوری عمارت نہیں گری۔ اس واقعے میں ایک خاتون کی موت ہوگئی۔ ملبے میں پھنسے تمام افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے اور بڑی حد تک ملبہ ہٹا دیا گیا ہے۔ باقی ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔‘‘