سری نگر، 14 اگست (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ دریائے سندھ کے پانی سے متعلق معاہدے کے تحت جموں و کشمیر کو اس کے جائز حصے کے پانی سے محروم رکھا گیا اور علاقے کو اپنے ہی دریاؤں کا مکمل استعمال کرنے کی اجازت نہ دیے جانے کے باعث ''ہمارا خون نچوڑ لیا گیا''۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ پانی کا ایک ایک قطرہ پاکستان کے لیے ''ریڈ لائن'' ہے، عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام بارہا اس مسئلے پر اپنے خدشات ظاہر کر چکے ہیں اور انہیں اپنے ہی آبی وسائل کے فوائد سے محروم رکھا گیا ہے۔
سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ''ہاں، ہمارا خون۔ ہم یہی کہتے رہے ہیں کہ ہمارا خون نچوڑ لیا گیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ شریف صاحب کو آخرکار احساس ہوا۔ ہمارا خون نچوڑ لیا گیا ہے۔ یہ ہمارے دریا ہیں۔ ان پر پہلا حق ہمارا ہے۔''
ہندوستان نے گزشتہ سال پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد 1960 میں پاکستان کے ساتھ طے کیے گئے آبی معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے پاکستان کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پانی کے معاملے پر پاکستان کا موقف کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بار بار ظاہر کی جانے والی ہمدردی سے متصادم ہے۔
انہوں نے سوال کیاکہ ''پاکستانی کہتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کے بہت ہمدرد ہیں۔ لیکن جب پانی کی بات آتی ہے تو اس وقت ان کی ہمدردی کہاں تھی جب ہمیں اپنے دریاؤں کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی؟''
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کئی دہائیوں سے اس معاہدے کے نتائج بھگتتا رہا ہے اور خطہ ترقی، پینے کے پانی کے منصوبوں اور آبی آمدورفت کے لیے اپنے آبی وسائل کا مکمل استعمال نہیں کر سکا۔
انہوں نے کہاکہ ''پنجاب کے تین دریا بھارت کے پاس رکھے گئے اور ہمارے تین دریا پاکستان کے حوالے کر دیے گئے۔ اس کے بعد سے ہم سندھ آبی معاہدے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ ہم چناب سے پینے کا پانی حاصل نہیں کر سکے۔ ہم تلبُل میں ڈیم بنا کر اسے آبی آمدورفت کے لیے استعمال نہیں کر سکے۔ ہم اپنے کسی بھی دریا پر بڑا ڈیم تعمیر کرکے پانی کو روک نہیں سکے۔''
معاہدے سے متعلق بحث میں آنے والی تبدیلی کا خیرمقدم کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ معاہدہ معطل ہی رہنا چاہیے تاکہ جموں و کشمیر بالآخر اپنے آبی وسائل سے فائدہ اٹھا سکے۔