دہلی یونیورسٹی نے ’پوسٹ گریجویٹ تاریخ‘ کے نصاب میں ایک ایسی تبدیلی کی ہے، جس نے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ نئے نصاب میں تیسرے سمسٹر سے ’دی دہلی سلطنت: اسٹرکچرز آف اتھارٹی اِن میڈیول نارتھ انڈیا (13ویں-14ویں صدی)‘ نامی پیپر ہٹا دیا گیا ہے۔ ترمیم شدہ نصاب ’پوسٹ گریجویٹ کریکولم فریم ورک 2024‘ (پی جی سی ایف) اور ’قومی تعلیمی پالیسی 2020‘ (این ای پی) کے تحت تیار کیا گیا ہے اور جولائی 2026 (یعنی گزشتہ مہینہ) سے نافذ ہوگا۔
یہ پرچہ دہلی سلطنت کے دور میں ریاست کی تشکیل، سیاسی اقتدار کی ساخت اور شمالی ہندوستان میں نظام حکومت پر مرکوز تھا۔ اس میں 13ویں اور 14ویں صدی کے سیاسی، مذہبی اور ثقافتی ارتقا کا بھی مطالعہ کرایا جاتا تھا۔ نصاب میں کی گئی تبدیلیاں صرف دہلی سلطنت سے متعلق پیپر تک محدود نہیں ہیں۔ ’ہسٹری آف نارتھ انڈیا، سی 1400 سے1550‘ کو بھی تیسرے سمسٹر کے ترمیم شدہ نصاب میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ دیگر مجوزہ نصاب بھی حتمی نصاب کا حصہ نہیں ہیں، جو اس طرح ہیں:
جینڈر اینڈ ویمن ان ارلی انڈیا: 1500 قبل مسیح سے 1000 عیسوی
پالیٹیکل پروسیسز اینڈ اسٹرکچر آف پولیٹیز ان اینشینٹ انڈیا
ریلیجن اینڈ سوسائٹی ان اینشینٹ انڈین لٹریچر
تاریخ کے شعبے نے مجموعی طور پر 38 ڈسپلن اسپیسفک الیکٹو (ڈی ایس ای) پیپرس تجویز کیے تھے۔ ان میں سے 16 پیپرس کو تیسرے سمسٹر کے حتمی نصاب میں جگہ ملی ہے۔
پوسٹ گریجویٹ سطح سے ہٹائے گئے دہلی سلطنت کے پیپر کو انڈر گریجویٹ سطح پر پڑھائے جانے والے دہلی سلطنت سے متعلق نصاب سے الگ سمجھا جا رہا ہے۔ پوسٹ گریجویٹ پیپر میں دہلی سلطنت کے دوران اقتدار اور نظام حکومت کی ساخت کے ساتھ ساتھ تاریخ نویسی کے مختلف نقطۂ نظر پر زیادہ توجہ مرکوز کی جاتی تھی، جبکہ یو جی سطح کا نصاب اس دور کا وسیع مطالعہ کراتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی یونیورسٹی نے ترمیم شدہ نصاب کا نوٹیفکیشن 7 اگست 2026 کو جاری کیا تھا۔ کچھ مجوزہ نصاب اب بھی زیر غور ہیں۔