نیٹ یو جی پیپر لیک معاملہ پر راجستھان کی راجدھانی جے پور میں جمعرات کو کانگریس نے بی جے پی ہیڈکوارٹر کا گھیراؤ کر زبردست احتجاج کیا۔ ریاستی کانگریس صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا کی قیادت میں کانگریس لیڈران و کارکنان ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر سے پیدل مارچ کرتے ہوئے شہید اسمارک کے راستے بی جے پی دفتر کی جانب بڑھے۔ احتجاج کے پیش نظر پورے علاقے میں کثیر پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی تھی۔
کانگریس کارکنوں کو روکنے کے لیے پولیس نے راستے میں کئی مقامات پر بیریکیڈز لگائے تھے، لیکن مظاہرین بیریکیڈنگ پر چڑھ گئے۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ بی جے پی ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھ رہے کانگریس کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم بھی دیکھنے کو ملا۔ احتجاج میں راجستھان اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد ٹیکارام جولی سمیت کئی سینئر کانگریس لیڈران موجود تھے۔ بڑی تعداد میں خواتین کارکنوں نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔ اس دوران کانگریس کارکنوں نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کے خلاف زوردار نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے ’نیٹ کا پرچہ کہاں ملے گا، بی جے پی کے باڑے میں‘ جیسے نعرے بھی لگائے، جس سے ماحول مزید گرم ہو گیا۔
اس درمیان ریاستی کانگریس صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) پر سنگین سوالات اٹھائے۔ راجستھان کانگریس صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے کہا کہ ’’یہ لوگ بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔ دھرمیندر پردھان نیٹ پیپر لیک کے کنگ پن ہیں۔ اس پورے معاملے کے ماسٹر مائنڈ دھرمیندر پردھان ہی ہیں۔ پیسہ کمایا جا رہا ہے اور حکومتوں کو غیر مستحکم کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’راہل گاندھی نے 2024 میں ہی کہا تھا کہ نیٹ کے پرچے لیک ہو رہے ہیں، اس پر کارروائی ہونی چاہیے اور اس پر بحث ہونی چاہیے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ لاکھوں بچوں کا مستقبل برباد ہو گیا۔ یہ لوگ ہمیں تقاریر دیا کرتے تھے، لیکن خود ہی بے ایمان اور بدعنوان نکلے۔‘‘
اس سے قبل بدھ کو بھی کانگریس نے پورے راجستھان میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ کئی اضلاع میں دھرنے، احتجاجی مظاہرے اور پتلا نذر آتش کر کے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی۔ کانگریس کارکنوں نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔