Jadid Khabar

ہاتھرس معاملہ پر بنی ڈاکومنٹری نے انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کیا، کانگریس حملہ آور

Thumb

کانگریس کی سینئر لیڈر الکا لامبا نے ہاتھرس معاملے پر ایک بار پھر بی جے پی حکومت اور اتر پردیش انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے جارحانہ انداز میں الزام عائد کیا ہے کہ اس کیس میں متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کی جگہ پورے نظام نے ملزمین کو بچانے کا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2020 کے ہاتھرس واقعہ کو 6 سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان کے زخم ابھی تک نہیں بھر سکے ہیں اور کئی سوالات آج بھی جواب طلب ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الکا لامبا نے کہا کہ 14 ستمبر 2020 کو ہاتھرس میں ایک دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 29 ستمبر کو متاثرہ لڑکی کی موت ہو گئی تھی، جس کے بعد 30 ستمبر کی رات پولیس نے مبینہ طور پر خاندان کی رضامندی کے بغیر اس کی آخری رسومات انجام دیں، جس پر اس وقت بھی شدید سیاسی تنازع کھڑا ہوا تھا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہاتھرس واقعہ کے بعد جب راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور کانگریس کارکنان متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے تو انہیں روک دیا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر اپوزیشن لیڈران کو متاثرہ خاندان سے ملنے دیا جاتا تو شاید معاملے کی سمت مختلف ہوتی۔
الکا لامبا نے ہاتھرس معاملے پر بنائی گئی ایک ڈاکومنٹری کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں شامل بعض افراد کے بیانات کئی نئے سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکومنٹری میں شامل ایک گائناکولوجسٹ نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ متاثرہ کو اسپتال لائے جانے سے قبل اہم شواہد متاثر ہوئے تھے، جبکہ بعد کی جانچ میں کئی اہم پہلو عدالت کے سامنے مؤثر طریقے سے پیش نہیں کیے گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کیس کو جانچ کے دوران کمزور کیا گیا تاکہ ملزمین کو فائدہ پہنچ سکے۔ الکا لامبا کے مطابق اگر شواہد وقت پر جمع کیے جاتے اور تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ ہوتی تو نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔