Jadid Khabar

مغربی بنگال اسمبلی انتخاب 85 فیصد پولنگ

Thumb

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران ووٹنگ تیزی سے ریکارڈ سطح کی طرف بڑھ رہی ہے اور سہ پہر 3 بجے تک 78.68 فیصد ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ اس مرحلے میں بعض مقامات پر تشدد اور ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم ووٹروں کا جوش کم نہیں ہوا۔

کنال گھوش، جو بیلے گھاٹا اسمبلی حلقے سے ٹی ایم سی کے امیدوار ہیں، نے کہا کہ عوام وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حمایت میں کھڑی ہے، لیکن الیکشن کمیشن کی بدانتظامی کے باعث ووٹنگ کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور بزرگ ووٹروں کی بڑی تعداد پولنگ مراکز پر پہنچ رہی ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے بھی انتظامی خامیوں پر سوال اٹھائے ہیں، جس کے باعث انتخابی عمل پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
ممتا بنرجی کو اپنی جیت کا یقین نہیں: ادھیر رنجن چودھری
مرشد آباد کی بہرام پور سیٹ سے کانگریس امیدوار ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ ممتا بنرجی کو اس بار اپنی جیت کا یقین نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں کہ ممتا بنرجی اپنے انتخابی حلقے میں ایک بوتھ سے دوسرے بوتھ پر جا رہی ہیں۔ یہ غیر معمولی بات ہے۔ وہ بے چین نظر آ رہی ہیں۔ انہیں اپنی جیت کا یقین نہیں ہے۔
دوپہر ایک بجے تک 61 فیصد سے زیادہ ووٹنگ
مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کے تحت 142 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ اسی دوران الیکشن کمیشن نے دوپہر ایک بجے تک ہونے والی پولنگ کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ کمیشن کے مطابق، دوپہر ایک بجے تک 61.11 فیصد ووٹنگ ہو چکی ہے۔
ترنمول رکن پارلیمنٹ سایانی گھوش نے جنوبی کولکاتہ کے کھستگیر پرائمری اسکول میں اپنا ووٹ ڈالا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا بوتھ تھانہ علاقے میں آتا ہے اور ہمیشہ پرامن رہا ہے۔ جنوبی کولکاتہ اور پورے کولکاتہ میں پولنگ عام طور پر پرامن ہوتی ہے، اس لیے عام طور پر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، لیکن آج ہم نے کچھ غیر معمولی دیکھا، اندر ووٹرس سے زیادہ پولیس اہلکار موجود ہیں۔ اگر 10 لوگ ووٹ ڈال رہے ہیں تو ان کے سامنے تقریباً 20 پولیس اہلکار کھڑے ہیں۔ اس سے عام لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ اگر آپ کو اتنا بھروسہ ہے کہ بنگال آپ کا ہے، تو پھر ایسی جنگ جیسی صورتحال کیوں پیدا کر رہے ہیں؟ بنگال بھی ہندوستان کا ایک حصہ ہے، جہاں دیگر جگہوں کی طرح انتخاب ہو رہے ہیں، لیکن یہاں کا فرق آپ کی مایوسی اور گھبراہٹ کو صاف طور پر ظاہر کرتا ہے۔‘‘