Jadid Khabar

بی جے پی کا دعویٰ، ممبئی کو ملے گا پہلا مراٹھی میئر

Thumb

ممبئی، 16 جنوری (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ممبئی کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار پارٹی کا مراٹھی میئر منصب سنبھالنے جا رہا ہے ۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج اس بات کی واضح نشاندہی کر رہے ہیں کہ بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی قیادت اب بی جے پی کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس حوالے سے بی جے پی کے ترجمان کیشو اپادھیائے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کا شک باقی نہیں رہا۔ ان کے مطابق ممبئی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب بی جے پی کا ایک مراٹھی میئر شہر کی باگ ڈور سنبھالے گا۔ اپادھیائے نے کہا کہ میونسپل انتخابات کے رجحانات صاف طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ بی جے پی بلدیاتی ادارے کی قیادت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی نتائج کا جائزہ لے رہا ہے ، وہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ میئر بی جے پی سے ہی ہوگا، اور پارٹی اس بات پر پُراعتماد ہے کہ یہ ذمہ داری ایک مراٹھی چہرے کو دی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع کو بی جے پی کارکنوں کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ممبئی میں اپنی سیاسی جدوجہد کئی دہائیاں قبل ایک جونیئر اتحادی کے طور پر شروع کی تھی، مگر گزشتہ چالیس برسوں میں اس نے مسلسل اپنی بنیاد مضبوط کی ہے ۔ ان کے مطابق بی جے پی کا سو سے زائد نشستوں پر پہنچنا اسی طویل اور منظم جدوجہد کا نتیجہ ہے ۔ اگرچہ مہایوتی اتحاد کے اندر قیادت سے متعلق بات چیت ہونا باقی ہے ، تاہم اپادھیائے نے کہا کہ ممبئی میں بی جے پی کا اپنا میئر دیکھنے کا دیرینہ خواب اب حقیقت کے قریب پہنچ چکا ہے ۔ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد شہر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور تمام جماعتیں نئی بلدیاتی قیادت سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ 
شولاپور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آنے والے نتائج نے ریاستی سیاست میں واضح پیغام دے دیا ہے ، جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی نے شاندار اور فیصلہ کن کامیابی حاصل کی ہے ۔ اب تک 102 میں سے 64 نشستوں کے نتائج کا اعلان کیا جا چکا ہے ، جن میں بی جے پی نے 58 نشستیں جیت کر 51 کی اکثریتی حد کو بآسانی عبور کر لیا ہے ۔ان نتائج کے ساتھ ہی شولاپور میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کی بلا شرکت غیرے برتری طے ہو گئی ہے ۔ انتخابی عمل کے دوران پارٹی نے جارحانہ مہم چلائی تھی، جس کا براہِ راست اثر نتائج میں نظر آ رہا ہے ۔دوسری جانب کانگریس، جو رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے کی قیادت میں میدان میں اتری تھی، کو سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق کانگریس صرف ایک نشست حاصل کر سکی ہے ۔ اسی طرح شیو سینا بھی محض ایک ہی نشست پر کامیاب ہو پائی ہے ۔ادھر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بھی اپنی موجودگی درج کراتے ہوئے شولاپور میونسپل کارپوریشن میں چار نشستیں جیت لی ہیں، جسے پارٹی کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے ۔اب تک کے نتائج بی جے پی کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتے ہیں، جب کہ بقیہ نشستوں کے نتائج کا اعلان ہونا باقی ہے ۔

مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ریاستی سیاست میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے ، جہاں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے غیر متوقع طور پر مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی بڑے سیاسی اتحادوں کے جوڑتوڑ کو بدل دیا ہے ۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق پارٹی 11 میونسپل کارپوریشنوں میں مجموعی طور پر 58 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے ۔
رجحانات کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم نے شہری علاقوں میں اپنی موجودگی کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے ۔ ممبئی میں پارٹی نے 3 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ، جبکہ تھانے میں 5 امیدوار آگے چل رہے ہیں، جس سے ممبئی میٹروپولیٹن علاقے میں پارٹی کی موجودگی واضح ہو گئی ہے ۔پارٹی کی سب سے مضبوط کارکردگی اورنگ آباد میں سامنے آئی ہے جسے اس کا روایتی گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ یہاں 16 امیدوار سبقت لیے ہوئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی نہ صرف اپنا ووٹ بینک برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اسے مزید مستحکم بھی کر رہی ہے ۔
دیگر علاقوں میں بھی پارٹی نے قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ناندیڑ میں 9 نشستوں پر اے آئی ایم آئی ایم کے امیدوار آگے ہیں، جبکہ دھولیہ میں 8 امیدوارسبقت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ امراوتی اور ناگپور میں بھی پارٹی کے امیدواروں کی پیش قدمی اس کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے ۔انتخابی مہم کے دوران پارٹی کے صدر اسدالدین اویسی نے ریاست بھر میں 19 جلسوں سے خطاب کیا تھا جن میں خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں اور دلت بستیوں میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت دیکھی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انہی جلسوں کا اثر ووٹوں میں بھی نظر آ رہا ہے ، جس سے پارٹی کو کئی شہری مراکز میں حکمراں مہایوتی اور اپوزیشن مہا وکاس اگھاڑی دونوں کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔