نئی دہلی، 30 اگست (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بڑے قانونی جھٹکے کے بعد بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایک وفاقی اپیل عدالت نے فیصلہ سنایا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) انہیں لبریشن ڈے ٹیرف لگانے کا اختیار نہیں دیتا۔ عدالت نے ٹیرف کو "قانون کے خلاف ہونے کے طور پر کالعدم قرار دیا" اور اس بات پرزوردیا کہ ان کی انتظامیہ کے تحت لگائے گئے تمام ٹیرف برقرار رہیں گے۔
تاہم عدالت نے ٹیرف کو عارضی طور پر برقرار رکھا، جس سے انتظامیہ کو سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا وقت مل گیا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انتباہ دیتے ہوئے لکھا، "تمام ٹیرف ابھی بھی اپنی جگہ پر ہیں! آج ایک انتہائی متعصب اپیل کورٹ نے غلط کہا کہ ہمارے ٹیرف کو ختم کر دیا جائے، لیکن وہ جانتے ہیں کہ آخر کار امریکہ جیت جائے گا۔ اگر یہ ٹیرف کبھی اٹھائے گئے تو یہ ملک کے لیے بالکل تباہ کن ہو گا۔ یہ ہمیں معاشی طور پر کمزور کر دے گا اور ہمیں مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔ انہیں ہٹانا "ملک کے لیے تباہ کن" ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا، "امریکہ اب بڑے تجارتی خسارے اور دوسرے ممالک، چاہے وہ دوست ہوں یا دشمن، کے ذریعہ لگائے گئے غیر منصفانہ ٹیرف اور نان ٹیرف تجارتی رکاوٹوں کو برداشت نہیں کرے گا، جو ہمارے صنعت کاروں، کسانوں اور باقی سب کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگراسے ایسے ہی برقرار رکھا گیا، تو یہ فیصلہ واقعی امریکہ کو تباہ کر دے گا۔"
انہوں نے کہا، "اس لیبر ڈے ویک اینڈ کے آغاز پر، ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ٹیرف ہمارے کارکنوں کی مدد کرنے اور ان کمپنیوں کی مدد کرنے کا سب سے اچھا ذریعہ ہیں، جو بہترین ’میڈ ان امریکہ‘ مصنوعات تیار کرتی ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "کئی برسوں تک، ہمارے بے پرواہ اور غیر دانشمند سیاستدانوں نے ٹیرف کو ہمارے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اب، امریکی سپریم کورٹ کی مدد سے، ہم انہیں اپنی قوم کو فائدہ پہنچانے اور امریکہ کو دوبارہ امیر، مضبوط اور طاقتور بنانے کے لیے استعمال کریں گے!"
روس کے ساتھ ہندوستان کی تیل کی تجارت جاری رکھنے کے جواب میں، امریکہ نے ہندوستانی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے، جو سابقہ شرح سے دوگنا ہے۔ اس سے ہندوستانی مصنوعات ایشیا میں سب سے زیادہ ٹیکس لگائے جانے والے مصنوعات میں شامل ہوگئے ہیں اور اس سے کپڑا، جوتے چپل اور زیورات جیسے محنت کش شعبوں پر بھاری اثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے ملازمتوں میں کمی اور مسابقت کے بارے میں خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
ہندوستان کو اب برازیل کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ امریکی ٹیرف کی شرحوں کا سامنا ہے۔ یہ اقدام امریکہ کی وسیع تر تجارتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ ویتنام، کمبوڈیا اور لاؤس جیسے دوسرے ممالک پر بھی ٹیرف لگ رہے ہیں۔