Jadid Khabar

کرناٹک پبلک سروس کمیشن کے ویٹرنری افسران کی بھرتی میں مبینہ گھوٹالے کی ایس آئی ٹی تحقیقات کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی سپریم کورٹ

Thumb

بنگلورو، 12 اکتوبر (یو این آئی) کرناٹک پبلک سروس کمیشن (کے پی ایس سی) کے تحت ویٹرنری افسران کی بھرتی میں بڑے پیمانے پر مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے مستقبل کا فیصلہ پیر کو سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے بعد متوقع ہے۔ کرناٹک حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے سے متعلق ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
جسٹس منوج مشرا اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ ریاستی حکومت کی اس اپیل پر سماعت کرے گی، جس میں کرناٹک ہائی کورٹ کی دھارواڑ بنچ کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے مبینہ بھرتی بے ضابطگیوں کی تفصیلی تحقیقات کے لیے سینئر پولیس افسر آلوک کمار کی سربراہی میں ایس آئی ٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی۔
سپریم کورٹ کی سماعت کو اہم قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ اس کے فیصلے سے یہ طے ہوسکتا ہے کہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی اپنی موجودہ ٹیم کے ساتھ تحقیقات جاری رکھے گی یا تحقیقات کی ذمہ داری سونپے گئے افسران میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔
ریاستی حکومت نے ایس آئی ٹی کی تشکیل کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کے لیے افسران کا انتخاب اور ان کی تعیناتی حکومت کے انتظامی صوابدید کے دائرے میں آتی ہے۔ حکومت نے اس معاملے میں غور کے لیے افسران کی ایک فہرست بھی پیش کی ہے۔
ہائی کورٹ نے مبینہ بے ضابطگیوں کی نوعیت اور ان کے دائرہ کار سے متعلق خدشات اور جامع تحقیقات کی ضرورت کے پیش نظر ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ اس لیے سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی کے دوران ہائی کورٹ کی ہدایات کی قانونی حیثیت اور تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے مناسب طریقہ کار پر توجہ مرکوز رہے گی۔
اس معاملے میں پہلے ہی متعدد تحقیقاتی ایجنسیاں سرگرم ہیں۔ جرائم کی تحقیقات کے محکمے (سی آئی ڈی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) مبینہ گھوٹالے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کررہے ہیں، جن میں مشتبہ مالی لین دین اور بھرتی کے عمل میں ممکنہ ہیرا پھیری بھی شامل ہے۔
ان الزامات نے انتخابی عمل کی شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر امتحان میں شرکت کرنے والے امیدواروں کے مفادات کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کیے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیاں غیر قانونی ادائیگیوں اور دیگر بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ کررہی ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی حقیقت کا تعین تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہونا ابھی باقی ہے۔
سپریم کورٹ کی سماعت سے ایس آئی ٹی کی تشکیل اور اسے سونپی گئی ذمہ داریوں کے حوالے سے فوری طور پر اختیار کیے جانے والے لائحہ عمل کے بارے میں وضاحت متوقع ہے۔ عدالت کے فیصلے کے اس مبینہ بھرتی گھوٹالے کی مزید تحقیقات پر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ہائی کورٹ کے حکم کے تحت تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی اپنی موجودہ ٹیم کے ساتھ تحقیقات جاری رکھے گی یا افسران کی تعیناتی پر ریاستی حکومت کے اعتراضات کے نتیجے میں ٹیم میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔ سماعت کے نتیجے کا انتظار ہے۔
یہ رپورٹ مقررہ سماعت سے قبل کی صورت حال پر مبنی ہے۔ اس میں عدالت کے کسی حتمی فیصلے کا دعویٰ نہیں کیا گیا ہے۔