Jadid Khabar

جھارکھنڈ میں موسلادھار بارش سے معمولاتِ زندگی متاثر

Thumb

رانچی، 25 ستمبر (یو این آئی) جھارکھنڈ میں گزشتہ دو دنوں سے جاری بارش کے باعث عام زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
مسلسل بارش کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ خلیج بنگال میں بننے والا شدید کم ہوا کا دباؤ اب سمندر سے نکل کر زمینی علاقے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ شمال مغربی سمت میں آگے بڑھتے ہوئے آہستہ آہستہ کمزور ہو رہا ہے، لیکن اس کے اثر سے جھارکھنڈ میں بارش کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ دارالحکومت رانچی سمیت کئی اضلاع میں آج بھی تیز ہوا، گرج چمک کے ساتھ بارش ہو رہی ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ آج 25 ستمبر کو شدید بارش اور گرج چمک کی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے، جبکہ 26 اور 27 ستمبر کو بنیادی طور پر بادل گرجنے اور بجلی چمکنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔ 28 ستمبر سے کوئی خاص الرٹ نہیں ہے۔
خلیج بنگال میں بننے والا کم ہوا کے دباؤ کا علاقہ شمالی آندھرا پردیش اور جنوبی اڈیشہ کے ساحل کو پار کر چکا ہے۔ اس کے اثر سے جھارکھنڈ میں موسم کا مزاج بدلا ہے۔ بدھ سے ریاست کے مختلف حصوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے آمدورفت پر بھی اثر پڑا ہے، بالخصوص ہوائی پروازوں پر۔ خراب موسم کے باعث انڈیگو اور ایئر انڈیا ایکسپریس کی کل چار پروازوں کو ڈائیورٹ کیا گیا۔ وہیں، ایئر انڈیا ایکسپریس کی دہلی-رانچی فلائٹ کا وقت دوبارہ مقرر کیا گیا ہے۔
آج صبح رانچی کے ڈورنڈا تھانہ علاقے کی اے جی کالونی کے پاس ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔ یہاں ایک اسکول بس پر اچانک درخت گر گیا۔ درخت گرنے سے بس کا اگلا حصہ جزوی طور پر تباہ ہو گیا۔ تاہم، بس ڈرائیور کی سمجھداری کے باعث بس میں سوار بچوں کو کسی قسم کی چوٹ نہیں آئی۔
دوسری جانب بوکارو اسٹیل سٹی کے سیکٹر-12/ای میں واقع کوارٹر نمبر 2050 میں جمعہ کی دیر رات بارش کے دوران تیسری منزل کا چھجا اچانک نیچے گر گیا۔ حادثہ رات تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔ واقعے کے وقت مکان کے مالک کوارٹر کے نیچے بنے آؤٹ ہاؤس کے کمرے میں سو رہے تھے۔ چھجا گرنے کی تیز آواز سے ان کی آنکھ کھل گئی اور وہ بال بال بچ گئے۔ حادثے میں ان کے پیر میں معمولی چوٹ آئی ہے۔
واقعے کے وقت مکان کے مالک گھر میں اکیلے تھے، جبکہ خاندان کے دیگر افراد باہر گئے ہوئے تھے۔ چھجا گرنے کی تیز آواز سن کر آس پاس کے لوگ بھی موقع پر پہنچ گئے۔ غنیمت رہی کہ چھجے کا ملبہ گرنے کے دوران کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا۔