وائناڈ: انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کے معاملے نے سیاسی تنازع کو مزید تیز کر دیا ہے۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انتخابی عمل سے چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں فوجداری مقدمہ چلانے اور غداری کی دفعہ کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وائناڈ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ جو شخص انتخابات کے عمل اور جمہوری نظام کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے، وہ ملک کے خلاف غداری کا مرتکب ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کسی ایسے عہدیدار کو قانونی تحفظ نہیں ملنا چاہیے، اگر اس نے غیر قانونی اقدامات کیے ہوں۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ ووٹر فہرستوں میں چھیڑ چھاڑ اور تقریباً 13 کروڑ ناموں کا حذف کیا جانا جمہوریت، آئین اور ملک کے خلاف ایک مجرمانہ فعل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابی فہرستوں میں غیر قانونی طریقے سے تبدیلیاں کی گئی ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف عام مجرموں کی طرح فوجداری کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیشن کے دیگر ارکان نے بے ضابطگیوں کی طرف توجہ دلائی، لیکن انہیں نظرانداز کیا گیا۔
یہ بیان انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر تحریری اعتراضات درج کرائے۔ ان اعتراضات میں نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹروں کے نام حذف یا بحال کرنے، فارم-6 میں تبدیلی اور انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا کے انتظام جیسے معاملات شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں الیکشن کمشنروں نے بعض اقدامات کو ’غیر مجاز‘ اور ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اہم فیصلے ان کی معلومات یا منظوری کے بغیر کیسے کیے گئے۔ رپورٹ میں انتخابی فہرستوں کے ڈیجیٹل ڈیٹا کو مرکزیت دینے اور ریاستی سطح کے انتخابی افسران کے کردار سے متعلق بھی اعتراضات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ تیز کر دیا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی بھی الیکشن کمیشن سے متعلق ان الزامات پر آج جمعرات کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرنے والے ہیں۔
ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ڈیرک او برائن نے پہلے سے پیش کیے گئے گیانیش کمار کی برطرفی سے متعلق تحریک کو دوبارہ سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق اپریل میں 60 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے یہ تحریک پیش کی تھی، جب کہ آئینی طریقۂ کار کے تحت کم از کم 50 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو سمیت بعض اپوزیشن رہنماؤں نے بھی رپورٹ کو اپنے ان الزامات کے تناظر میں پیش کیا ہے جن میں وہ انتخابی نتائج اور ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے رپورٹ میں سامنے آنے والے اختلافات کو ادارے کے معمول کے اندرونی غوروفکر کا حصہ قرار دیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ تحریری تجاویز، اعتراضات اور تکنیکی مشورے ادارہ جاتی عمل کا حصہ ہیں اور گزشتہ ایک سال کے تمام فیصلے مکمل کمیشن کی متفقہ منظوری سے کیے گئے۔