امریکی ٹیرف کے حوالے سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ ’امریکی کامرس ڈپارٹمنٹ‘ کے ذریعہ جاری اطلاع کے مطابق امریکہ ہندوستان سمیت 20 ممالک سے درآمد کی جانے والی کچھ مخصوص دواؤں اور اس سے متعلق انگریڈینٹس (مواد) پر کوئی ایڈ ویلورم (قیمت پر مبنی) ٹیرف عائد نہیں کرے گا۔ ان دواؤں کا استعمال نایاب بیماریوں کے علاج میں کیا جاتا ہے۔ ’امریکی کامرس ڈپارٹمنٹ‘ نے فیڈرل رجسٹر میں ان ممالک کی فہرست جاری کی ہے، جنہیں ان مخصوص دواؤں کے لیے صفر ٹیرف کی سہولت فراہم کرائی جائے گی۔ ہندوستان کے علاوہ اس فہرست میں ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، یورپی یونین، گوئٹے مالا، انڈونیشیا، جاپان، اردن، ملائیشیا، شمالی مقدونیہ، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ، لیکٹنسٹائن، تائیوان، تھائی لینڈ، برطانیہ اور ویتنام شامل ہیں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان مقامات سے آنے والی اہل مصنوعات پر صفر فیصد ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، کیونکہ امریکہ کے ساتھ ان کے موجودہ یا مستقبل کے ٹریڈ اور سیکورٹی فریم ورک ایگریمنٹ ہیں۔ ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کے مطابق ’ایڈ ویلورم‘ ٹیرف، ٹیکس عائد ہونے والے سامان کی مانیٹری ویلیو کا ایک مقررہ فیصد ہوتا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے، جب واشنگٹن 29 ستمبر سے کچھ پیٹنٹیڈ فارماسیوٹیکل امپورٹ اور ان سے متعلق انگریڈینٹس پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے ارادے سے 2 اپریل کو ایک منشور جاری کیا تھا۔ اس کے تحت ٹریڈ ایکسپینشن ایکٹ کی دفعہ 232 کے تحت پیٹنٹ حاصل شدہ دواؤں، بایولوجکس اور ان سے متعلق انگریڈینٹس پر 100 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔